صفحہ اولNewsچیئرمین اعلی تعلیمی کمیش کے اعزاز میں عشائیہ تعلیمی کانفرنس بن گئی

چیئرمین اعلی تعلیمی کمیش کے اعزاز میں عشائیہ تعلیمی کانفرنس بن گئی

اسلام آباد : چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ علمی محفل بن گئی ، متعدد وائس چانسلرز کی جانب سے اپنی جامعات کی کارکردگی بھی پیش کی گئی اور آٹیفیشل انٹیلجنس کے فروغ پر زور بھی دیا گیا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی خدمات کو سراہا گیا ۔ 

اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں سینیئر قانون دان حافظ عبدالرافع ایڈووکیٹ کی میزبانی میں ہائر ایجوکیش کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز اختر کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں جامعات کے وائس چانسلر ، معزز ججز سمیت علمی شخصیات نے شرکت کی ۔ جنہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور آٹیفیشل انٹیلجنس کے کردار پر زور دیا ۔

اس موقع پر ڈاکٹر نیاز اختر نے کہا کہ اعلی تعلیمی کمیشن جامعات میں ایسی تعلیم کا خواہاں ہے جو وقت کی ضرورت کو پورا کرے اور عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکے ۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے جسٹس سید محمد انور نے کہا کہ اعلی تعلیمی میں ملکی جامعات کے اعلی کردار کی تعریف کی اور دور حاضر کے حالات کت مطابق تعلیم کے کردار پر زور دیا ۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا آئن لائن تعلیم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگوں کو رحجان اب بھی تعلیم کی ہے اگر اس کو مذید آسان کیا جائے تو لوگوں میں تجسس موجود ہے ۔

پیر مہر علی شاہ اریڈ ایگری کلچر یونیورسٹی (بارانی زرعی یونیورسٹی) کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ ملک کی تعلیمی کارکردگی کا اوورآل مورال بڑھا ہے اور عالمی سطح پر اب پاکستانی جامعات بھی اپنا آپ منوا رہی ہیں ۔

ایئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایئر مارشل (ر) عبدالمعید نے کہا کہ جتنا ہم اعلی تعلیم میں آسانیاں دینگے اسی قدر طلبہ کا رحجاج تعلیم و علم کی جانب بڑھے گا اور یہی ہمارا اثاثہ ہے ۔ ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے کیمپس ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمر شہباز خان نے کہا کہ ملک میں یونیورسٹی کا کردار اب اس قدر اہم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کوئی شخص تعلیم کے بغیر رہے گا تو اب کی اپنی نااہلی ہے ۔ 

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ اس دور میں اعلی تعلیمی کمیشن نے جامعات کو جس راہ پر ڈالا ہے اس سے یونیورسٹیاں عالمی سطح پر نمایاں ہو رہی ہیں اور علاقائی ضرورت کو بھی پورا کر رہی ہیں ۔

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے AI پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں پاکستان میں بھی جامعات میں اگر آٹیفیشل انٹیلجنس کی تعلیم شروع کر دی جائے تو ہم عالمی سطح پر آئندہ چند برس میں برین ڈرین کو روک سکتے ہیں اور یہ وقت ہے کہ اس میں ہمیں اس موضوع پر سوچنا ہو گا ۔

تقریب میں عبادات انٹرنیشنل یونیورسٹی (اسلام آباد) کے پرو ریکٹر وجاہت لطیف نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ اس وقت چیئرمین اعلی تعلیمی کمیشن کی صورت میں ایک ماہر تعلیم ہمیں میسر ہے ۔

اس عشائیہ کی تقریب میں وائس چانسلر کے علاوہ ماریشس کے سفیر منصور کریم بخش کے علاوہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے ذمہ داران ، اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈینز ، پی ٹی وی کے اینکر سبوح سید سمیت دیگر افراد نے شرکت کی ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
Are you human? Please solve:Captcha


مقبول ترین