کرک: خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک کے بعض ملازمین کی جانب سے جاری کیے گئے ایک وائٹ پیپر میں یونیورسٹی کے انتظامی امور، تقرریوں، مالی معاملات اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت، متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وائٹ پیپر میں موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر خلیلی کے دورِ انتظامیہ سے متعلق مختلف معاملات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق وائس چانسلر نے مئی 2025 میں عہدہ سنبھالا، جس کے بعد مبینہ طور پر انتظامی عہدوں پر تدریسی عملے کی تعیناتی سمیت متعدد ایسے اقدامات کیے گئے جو خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 کی دفعہ 17-A سے متصادم قرار دیے گئے ہیں۔
وائٹ پیپر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض اساتذہ کو رجسٹرار، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، پرووسٹ، ایڈیشنل پرووسٹ، میڈیا انچارج، ٹرانسپورٹ افسر اور دیگر انتظامی ذمہ داریاں دی گئیں۔ دستاویز میں غنی الرحمان، فصیح الرحمان، شاد محمد، نذیر الرحمان، شبیر اللہ اور محمد انور سمیت متعدد افراد کی تعیناتیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
دستاویز میں بعض تعیناتیوں کو عدالتی احکامات سے متصادم قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ عدالتی سماعتوں سے قبل عہدوں میں تبدیلیاں کر کے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ وائٹ پیپر میں اس حوالے سے مختلف رٹ اور توہینِ عدالت کی درخواستوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
مالی معاملات کے حوالے سے وائٹ پیپر میں مین کیمپس کی تعمیر کے منصوبے کے لیے غنی الرحمان کو بطور پروجیکٹ کوآرڈینیٹر تعینات کرنے، 20 فیصد اضافی چارج الاؤنس اور سرکاری گاڑی فراہم کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ افسر کے پاس سول انجینئرنگ کی مطلوبہ اہلیت موجود نہیں تھی۔
وائٹ پیپر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ 36 افراد کو مبینہ طور پر بغیر عوامی اشتہار اور مسابقتی عمل کے بھرتی کیا گیا، جس سے یونیورسٹی کے انتظامی اخراجات میں اضافہ ہوا۔ دستاویز میں یونیورسٹی کے تدریسی اور انتظامی عملے کے تناسب پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔
وائٹ پیپر میں یونیورسٹی کے موجودہ دور میں قانونی مقدمات پر مبینہ طور پر تقریباً 6 ملین روپے خرچ ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ بعض سیاسی عناصر کی جانب سے مبینہ سرپرستی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے آخر میں پشاور ہائی کورٹ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور نیب سمیت متعلقہ اداروں سے معاملے کا نوٹس لینے، تدریسی عملے کو انتظامی عہدوں سے واپس بھیجنے، یونیورسٹی کے مالی معاملات کا فرانزک آڈٹ کرانے، مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات اور ایک اعلیٰ سطحی عدالتی و ادارہ جاتی انکوائری قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وائٹ پیپر میں عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق اس دستاویز سے نہیں ہوتی۔ خبر کی اشاعت سے قبل یونیورسٹی انتظامیہ، وائس چانسلر اور دیگر متعلقہ افراد کا مؤقف شامل کرنا صحافتی طور پر ضروری ہوگا۔


