کراچی : سٹی کالج ناظم آباد , 1950ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے کراچی آنے والے ایک ایسے باہمت شخص کی کاوشوں سے قائم ہوا جس کے پاس رہنے کو کوئی مکان تھانہ گزر بسر کے لئے کو ئی ملازمت ۔نوکری نہ ملی تو بچوں کی ٹیوشن ہی واحد سہارا بنی کئی راتیں اسے بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ) کی فٹ پاتھ پر قائم بند دوکانوں کے کیبنوں پر سو کر گزارنا پڑیں ۔ایسے نا مساعد حالات میں اس نے اپنی تعلیم مکمل کی ایم اے (انگلش) کیا ۔شادی ہوئی نوکری ملی نیشنل کالج میں انگریزی کے لیکچرار کے طور پر تقرر ہوا ۔
یہ مختصر سا تعارف ہے سٹی کالج کے بانی پرنسپل جناب جمیل الرحمان حورانی کا . ساونلی رنگت , تیکھے نقوش , لمبے قد اور مضبوط ہاتھ پاوں کے حامل حورانی صاحب ایک پر وقار شخصیت کے مالک تھے جن کی بےچین طبعیت نے انہین نچلا نہ بیٹھنے دیا ۔نیشنل کالج اور اسلامیہ کالج کے چند سینئر اساتذہ کو اپنے ساتھ لیکر 1964ء میں ناظم آباد نمبر 1 , میں انکوائری آفس بس اسٹاب کے سامنے کرایہ کی عمارات میں نیشنل سٹی کالج کے نام سے ایک پرائیویٹ کالج کا آغاز کیآ. ابتدا میں یہاں آرٹس کے مضامین کی تعلیم دی جاتی تھی .1966ء میں کالج میں سائنس فیکلٹی کا اضافہ کردیا گیا. اور کالج اب سٹی کالج کہلانے لگا حوارانی صاحب کی انتھک کوششوں سے کالج ترقی کرتا گیا طلبا و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سٹی بوائز کالج اور سٹی گرلز کالج کے نام سے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ کالج قائم کر دئیے گئے گرلز کالج میں محترمہ حسن شہوار وائس پرنسپل تعینات ہوئیں جبکہ بوائز کالج میں میر حامد علی وائس پرنسپل مقرر ہوئے .ایوننگ شفٹ میں جناب دلدار علی غازی شعبہ معارف اسلامی کالج کے نگران پرنسپل تعینات کئے گئے
1966 ء میں سائنس فیکلٹی کے قیام کے ساتھ سٹی کالج نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور طلبا اور طالبات کی تعداد کے اعتبار سے شہر کے بڑے اور ممتاز کالجوں میں اس کا شمار ہونے لگا. کرایہ پر حاصل کی گئی چار عمارتوں پر مشتمل اس کالج میں طلبا یو نین کے الیکشن ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتے حلف برداری کے بعد کالج میں ہفتہ طلبہ زور شور سے بنایا جاتا .متعدد تقریبات منعقد کی جاتیں جن عید میلاد النبی, یوم حسین, مباحثہ, کوئز مقابلہ , اور پکنک وغیرہ قابل ذکر ہیں. حورانی صاحب طلبا تقریبات میں گہری دلچسپی لیتے. شہر کی نامور اور قابل شخصیات کو مدعو کیا جاتا . سٹی کالج کی تقریبات میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات میں بیگم نصرت بھٹو, حکیم محمد سعید, ڈاکٹر بقائی , جناب سرور بارہ بنکوی, فیض احممد فیض جسٹس ایم بی احمد, حمایت علی شاعر. سوز شاہجہاں پوری ڈاکٹر منظور احمد , زیڈ اے بخاری , ڈاکٹر مسعود الحسن جعفر ی چیئرمیں ثانوی و اعلی ثانوی بورڈ وغیرہ شامل ہیں
سٹی کالج میں کالج میگزین نت نئے عنوانات کے ساتھ ہر سال باقاعدگی سے نکلتا.جس میں کالج میں ہونے والی سرگرمیوں کی روداد اور دیگر تفصیلات درج ہو تیں. ہفتہ طلبا کے دوران ہونے والی تقریبات ہوں یا میگزین کی اشاعت یہ سب کام قابل اور تجربہ کار اساتذہ کی زیر نگرانی طلبا یونین عہدہ دار انجام دیتے تھے
جمیل الرحمان حورانی سٹی کالج کو ایک عظیم درس گاہ کی حیثیت دینا چاہتے تھے اور اس حوالے سے انہوں چار ایکڑ زمین بھی بفر زون کے علاقے میں حاصل کر لی تھی لیکن بدقسمتی سے یہ زمین قبضہ مافیا نے ہتھیا لی 1972ء میں کالجزز قومی تحویل میں لے لئے گئے نیشنلائزیشن کے بعد کچھ عرصہ تک حورانی صاحب سٹی کالج کے پرنسپل تعینات رہئے 1973ء میں انہوں نے سرکارملازمت سے استعفئ دے دیا اور اپنے ذاتی امپورٹ ایکسپورٹ کارو بار میں مشغول ہو گئے . سٹی کالج کو عدالتی حکم پر 1992ء میں موسیٰ کالونی فیڈرل بی ایریا منتقل کردیا گیا ۔
سٹی کالج سے فارغ التحصیل طلبہ میں پولیس افسر اقتدار عالم ، پولیس افسر سید شوکت ، پولیس افسر نجم خان ، آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ ، ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق اور ڈاکٹر عشرت العباد خان سابق گورنر سندھ اور دیگر شامل ہیں ۔
سٹی کالج کے اساتذہ میں سے فزکس کے پروفیسر آغا اکبر مرزا ، اردو کے پروفیسر آصف پاشا صدیقی , کامرس کے پروفیسر خالد امین ، اور کیمسٹری کے ڈاکٹر عبدلعزیز یکے بعد دیگرے بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کراچی میں کنٹرولر آف ایگزامنیشن کے عہدہ پر فائز رہئے ۔اردو کے پروفیسر آصف پاشا میٹرک بورڈ میں کئی سال تک سیکریٹری کے فرائض بھی انجام دیتے رہئے۔سٹی کالج ہی کے کیمسٹری کے استاد۔ جناب نسیم حیدر آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج کے پرنسپل تعینات ہوئے جبکہ زولوجی کے استاد سید رضوان حیدر کو ڈی جے سائنس کالج کا پرنسپل مقرر کیا گیا.

