Monday, May 25, 2026
صفحہ اولNewsگومل یونیورسٹی میں بھرتیوں کے حوالے سے قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ...

گومل یونیورسٹی میں بھرتیوں کے حوالے سے قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی

ہری پور : خیبر پختونخوا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان میں 2024-25 کے دوران ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں متعدد امیدواروں کی شکایات، سلیکشن بورڈ کے طریقہ کار، اسکرونٹی، انٹرویو مارکس اور میرٹ سے متعلق مختلف نکات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 8 جنوری 2026 کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ گومل یونیورسٹی کی سلیکشن پراسیس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جا سکیں ۔ بعد ازاں کمیٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ 27 اپریل 2026 کو حکومت کو جمع کروائی ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی امیدواروں نے الزام عائد کیا کہ انہیں قواعد کے برخلاف نااہل قرار دیا گیا، ان کے تجربے یا تحقیقی کام کو مکمل نمبر نہیں دیے گئے، جب کہ بعض امیدواروں کے مطابق انٹرویو میں کم نمبر دے کر انہیں میرٹ لسٹ سے باہر کیا گیا۔ انکوائری کمیٹی نے ہر شکایت کا الگ الگ جائزہ لیتے ہوئے کئی معاملات میں “کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی” قرار دیا، جب کہ بعض کیسز میں مزید جانچ کی سفارش بھی کی گئی ۔

رپورٹ میں جن امیدواروں اور افسران کے نام شامل ہیں، ان میں پروفیسر ڈاکٹر عثمان غنی، ریاض احمد بٹانی، ڈاکٹر فتح خان، سید سلیمان، رقیہ سعادت، ڈاکٹر احمد نعیم، فرید اللہ خان، سرمد مسعود، حکمت اللہ، سید شکیل عباس، ڈاکٹر محمد صدیق، ڈاکٹر احسان اللہ دانش اور ڈاکٹر کنعان اللہ خان شامل ہیں۔ بعض امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مطلوبہ قابلیت اور تجربہ موجود تھا لیکن اس کے باوجود انہیں شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا یا انٹرویو میں غیر معمولی طور پر کم نمبر دیے گئے ۔

انکوائری رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ بعض امیدواروں نے سلیکشن بورڈ کے کورم، اسکرونٹی کمیٹی کی تشکیل، پی ایچ ڈی اسپیشلسٹ کی عدم موجودگی، اور بیرونی ماہرین کی رائے کو نظر انداز کرنے جیسے اعتراضات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ کیسز میں امیدواروں کے اعتراضات کو درست نہیں پایا گیا ، تاہم چند معاملات میں ٹیسٹنگ ایجنسی اور سلیکشن پراسیس کے مزید جائزے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔

ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے گومل یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور متعلقہ کارروائی سے حکومت کو آگاہ کیا جائے ۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے جب کہ متاثرہ امیدوار مزید قانونی و انتظامی کارروائی پر بھی غور کر رہے ہیں۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق بعض امیدواروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں قواعد کے برخلاف نااہل قرار دیا گیا، بعض کے مطابق ان کے تحقیقی جرائد اور تجربے کو مکمل نمبر نہیں دیے گئے، جبکہ کچھ امیدواروں نے انٹرویو میں غیر معمولی طور پر کم نمبر دینے پر اعتراض اٹھایا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض امیدواروں نے سلیکشن بورڈ کے طریقہ کار، پی ایچ ڈی اسپیشلسٹ کی عدم موجودگی، بیرونی ماہرین کی رائے اور اسکرونٹی کمیٹی کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے۔

کمیٹی نے مختلف کیسز کا جائزہ لینے کے بعد کئی شکایات کو بے بنیاد قرار دیا، تاہم بعض معاملات میں مزید جانچ اور ریکارڈ کی دوبارہ پڑتال کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گومل یونیورسٹی انتظامیہ ان سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنائے اور آئندہ بھرتیوں میں شفافیت کو مزید بہتر بنایا جائے۔ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ متاثرہ امیدوار آئندہ قانونی اور انتظامی کارروائی پر بھی غور کر رہے ہیں۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین