پشاور ( ارشد عزیز ملک ، روزنامہ جنگ ) خیبر پختونخوا کے ایک سرکاری ڈگری ایوارڈ کرنے والے ادارے، پاک-آسٹریا فاخوشولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں گزشتہ 10 سال سے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی مسلسل تعیناتی ایک معمہ بن گئی ہے، حالانکہ اس پروجیکٹ کی لائف 30 جون 2023 مکمل ہوئی جس کے بعد مذید دو سال کی ایکسٹینشن دی گئی جو 23 جون 2025 کو ختم ہو چکی ہے ۔ یعنی جس پروجیکٹ کے لئے پی ڈی رکھا گیا تھا وہ پروجیکٹ بھی مکمل ہو چکا ہے ۔
2021 میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کی سمری میں ریکٹر کی تقرری کے بعد پی ڈی کو ہٹانے کی سفارش کی گئی، سمری وزیر اعلیٰ اور گورنر نے منظور کیا، اعلامیہ جاری نہ ہو سکا ، ناصر خان جنوری 2017 میں عارضی پی ڈی بنے ، جنوری 2019 میں دو سالہ کنٹریکٹ مکمل ہونے پر بھی کام کرتے رہے، بعد میں یونیورسٹی کے پے رول پر آ گئے ۔
ناصر خان کا کہنا ہے کہ پی ڈی سمیت 26 افراد کو یونیورسٹی کے باقاعدہ پے رول پر منتقل کیا گیا، ادارے کا پی سی ون توسیع کے لیے زیر غور ہے ۔ سمری غلط فہمی کا نتیجہ تھی، اس حوالے سے ادارے میں شمولیت سے متعلق چند سوالات ادارے کے ریکٹر کو ارسال کیئے گئے تاہم ریکٹر محمد مجاہد نے کہا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کا بیان ہی ادارے کا باضابطہ مؤقف ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریکٹر کی تقرری کے بعد بھی پراجیکٹ ڈائریکٹر کو نہ صرف برقرار رکھا گیا ہے بلکہ اسی عہدے پر بھاری تنخواہ کے ساتھ ادارے میں ایڈجسٹ بھی کیا گیا ۔ حیران کن طور پر موجودہ ریکٹر ڈاکٹر محمد مجاہد نے موجودہ خلاف ضابطہ تعینات پی ڈی ناصر خان کے ماتحت 30 جون 2017 سے 16 مارچ 2021 تک بطور کنسلٹنٹ بھی کام کیا ہے ۔ جس کے بعد موجودہ پی ڈی نے ان کو بطور ریکٹر تعینات کرایا اور یوں ریکٹر نے ناصر خان کی پی ڈی شپ پروجیکٹ سے ختم ہونے کے بعد ان کی بھاری بھر کم 25 لاکھ روپے تنخواہ کو یونیورسٹی سے سے ادا کرنا شروع کر دی ہے ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی ایک سمری بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں پاک-آسٹریا فاخوشولے انسٹی ٹیوٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ناصر خان کو عہدے سے ہٹانے کی باقاعدہ منظوری ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم حیران کن طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ سابق وزیر اعلی کے پی نے سمری منظور کی اور اس کے بعد اسی سمری کو گورنر نے بھی منظور کیا جس کے بعد مذکورہ سمری کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بھی دبا دیا ہے ۔

بعد ازاں ناصر خان کو یونیورسٹی میں جذب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس معاملے کو مزید مشکوک بنا رہا ہے۔ ذرائع کا مبینہ طورپر دعویٰ ہے کہ وہ ماہانہ بھاری تنخواہ لے رہے ہیں ۔ یونیورسٹی کئی مرتبہ مختلف منصوبوں کے لئے پی سی ون بھجوا چکی ہے جن کی حکومت نے اب تک کوئی منظوری نہیں دی ہے ۔

ذرائع کے مطابق ادارے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی کوئی باقاعدہ منظور شدہ آسامی بھی موجود نہیں تھی ۔ اس کے باوجود 68 سالہ ناصر خان کو نہ صرف برقرار رکھا گیا ہے بلکہ انہیں ریکٹر کی جانب سے ادارے کی سروس میں شامل بھی کر لیا گیا ہے ۔ حالانکہ وہ یونیورسٹی آف پشاور سے مئی 2018 میں 60 سال کی عمر پوری ہونے پر ریٹائر ہو چکے تھے ۔ اس پیش رفت نے انتظامی شفافیت اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں ۔
دستاویزات کے مطابق ناصر خان کو 2016 میں عارضی طور پر پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ خالصتاً پراجیکٹ پر مبنی عہدے کو ادارے کے قوانین میں کسی شق کے بغیر مستقل کیسے کیا گیا۔ ان تحفظات کے جواب میں 68 سالہ پراجیکٹ ڈائریکٹر ناصر خان نے اس نمائندے کو بتایا کہ وہ معاملے کی وضاحت نکتہ وار کرنا چاہتے ہیں تاکہ درست فہم پیدا ہو سکے ۔
سمری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں کسی غلط فہمی کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام 27 افراد کو یونیورسٹی کے پے رول پر رکھا گیا اور اگر کسی اور کو کہیں سے فارغ کیا گیا تو وہ اس منتقلی کا حصہ نہیں تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا کی دیگر جامعات میں بھی اسی نوعیت کے انتظامات موجود ہیں، جہاں پراجیکٹ ڈائریکٹرز ادارہ جاتی پے رول پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کے پی پراجیکٹ پالیسی کے حوالے سے، جس کے تحت پراجیکٹ ملازمین کو مستقل نہیں کیا جا سکتا، ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی نیم خودمختار اداروں پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتی، جو صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت چلتے ہیں۔
ان کے مطابق کوئی عمومی پالیسی قانونی حیثیت رکھنے والے قوانین پر غالب نہیں آ سکتی۔ مستقل ملازمین کے حوالے سے ناصر خان کا کہنا تھا کہ قانونی دفعات بنیادی طور پر مستقل عملے پر لاگو ہوتی ہیں، جبکہ کنٹریکٹ، عارضی اور ایڈہاک ملازمین عام طور پر سٹیٹوٹری رولز کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ انہیں پی سی-ون دستاویزات اور بجٹ منظوریوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق ڈیلی ویجز ملازمین بھی سٹیٹوٹ میں شامل نہیں ہوتے، اس لیے یہ قواعد غیر مستقل ملازمتوں پر اسی طرح لاگو نہیں ہوتے۔ جب پراجیکٹ ڈائریکٹر سے ماہانہ 25 تنخواہ لینے کے الزام کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا ۔
انہوں نے زور دیا کہ ان کے کیس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 26 دیگر اسامیاں 11 اپریل 2018 کو منظور ہونے والے پی سی-ون میں باقاعدہ شامل تھیں اور ان کی تنخواہیں سالانہ بجٹ میں مختص کی جاتی رہی ہیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی قانونی حیثیت اور ان کی ادارے میں شمولیت سے متعلق چند سوالات ادارے کے ریکٹر کو ارسال کیے گئے، تاہم اس حوالے سے کوئی تحریری جواب موصول نہیں ہوا۔ رابطہ کرنے پر پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ کے ریکٹر محمد مجاہد نے مؤقف اختیار کیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کا بیان ہی ادارے کا باضابطہ مؤقف ہے۔

