Wednesday, June 10, 2026
صفحہ اولNewsوفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کا احتجاج برقرار ‛ کمیٹی کا بیانیہ...

وفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کا احتجاج برقرار ‛ کمیٹی کا بیانیہ “ڈراما” قرار

وفاقی اردو یونیورسٹی انجمن اساتذہ کا احتجاج برقرار ‛ کمیٹی نے مشترکہ انجمن اساتذہ عبدالحق اور گلشن اقبال کیمپس کے مطالبات منظور کرنے کا دعوی کر دیا ۔ جس کو انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس نے بیانیہ کو ڈراما قرار دے دیا ۔

کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی میں اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے قائم مذاکراتی کمیٹی نے دعوی کیا ہے کہ مشترکہ انجمن اساتذہ عبدالحق وگلشن اقبال کیمپس کے تمام مطالبات اور تحفظات کو تفصیل سے غور و خوض کے بعد اپنی سفارشات مرتب کر کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کو پیش کیں۔

شیخ الجامعہ نے مذاکراتی کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں منظور کر لیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اساتذہ کے جائز مطالبات کے حل اور ان کے مسائل کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تدریس، امتحانات اور تحقیقی سرگرمیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رہ سکیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ اساتذہ، طلبہ اور تمام متعلقہ فریقین کے تعاون سے ادارے کی ترقی اور تعلیمی ماحول کے استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

وفاقی اردو یونیورسٹی: اساتذہ انجمنوں کا وائس چانسلر کا دعویٰ مسترد کرنے کا اعلان، مذاکراتی کمیٹی کو ‘ڈراما’ قرار دے دیا ۔ انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی (عبدالحق اور گلشن اقبال کیمپس) نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظابطہ خان شینواری کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس خبر کو سراسر ‘فیک نیوز’ (جھوٹی خبر) قرار دے دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ روز قائم ہونے والی ’بااختیار‘ مذاکراتی کمیٹی کی سفارشات منظور کر لی گئی ہیں اور اساتذہ کو امتحانی عمل شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

​اساتذہ نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کیمپسز کی انجمنوں نے اس کمیٹی کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا اور وائس چانسلر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کراچی آئیں اور اساتذہ سے براہِ راست مذاکرات کریں۔

​اساتذہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ظابطہ خان شینواری عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں وہ شدید ذہنی خلفشار کا شکار نظر آتے ہیں۔ وہ خود ہی ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں، وہ کمیٹی اپنے ہی ارکان کے ساتھ نام نہاد مذاکرات کرتی ہے اور وائس چانسلر کو نامعلوم سفارشات بھیج دیتی ہے، جسے وائس چانسلر فوری طور پر منظور کر کے اخباری بیان بھی جاری کر دیتے ہیں۔

اساتذہ نے وائس چانسلر اور کمیٹی ارکان کے اس طرزِ عمل کو ‘خود کو دھوکا دینے کی شعوری کوشش’ قرار دیا ہے۔ اساتذہ نے تمام مطالبات کی منظوری اور وائس چانسلر کے ساتھ مذاکرات تک امتحانات کے بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
Are you human? Please solve:Captcha


مقبول ترین