کراچی : سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے ایک سابق ملازم نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن داخل کر کے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی کی انتطامیہ نے وزیر اعلی سندھ کے ساتھ دھوکا کیا ہے اور سنڈیکیٹ اور سینیٹ کے ذریعے خود کو بھرتی کرا لیا ہے ۔
صداقت حسین راجپر نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن داخل کی ہے ، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیر اعلی سندھ نے 21 جون 2022 کو 26 فکیلٹیز کو کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی ، جس کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے اشتہار ریگولر ملازمین کی بھرتی کا جاری کر دیا گیا ۔ جس میں اعلی تعلیمی کمیشن کی رولز کی خلاف ورزی بھی کی گئی ۔
بعد ازاں بھرتیوں کے لئے 37واں سلیکشن بورڈ منعقد کیا گیا ، جس میں سلیکشن بورڈ کا ممبر گریڈ 19 کا اسسٹنٹ پروفسیر عبدالحفیظ خان تھا ، حفیظ خان نے اسی سلیکشن بورڈ میں خود کو گریڈ 21 پر پروفیسر بھرتی کرا لیا ۔ اس کے علاوہ سلیکشن بورڈ کا دوسرا ممبر گریڈ 19 کا اسسٹنٹ پروفیسر آٹیفشل انٹیلجنس میتھا میٹکس ڈاکٹر منصور کھوڑو تھا ، جس نے اسی سلیکشن بورڈ میں خود گریڈ 20 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھرتی کرا لیا ۔ دونوں نے اپنی بھرتی کے سلیکشن بورڈ کے منٹس پر دستخط بھی خود بھی کئے ہیں ۔

اسی سلیکشن بورڈ میں لیکچرار آصف حسین سموں ، قرۃ العین نذیر اور محمد نعیم احمد کو بھی اسسٹنٹ پروفسیر بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی تھی ۔ جس کے بعد مذکورہ بھرتیوں کی منظوری کے لئے سنڈیکیٹ کا 28واں اجلاس منعقد کیا گیا ۔اس سنڈیکیٹ اجلاس میں بھی مذکورہ تینوں امیدواروں نے خود کو بھرتی کرنے منظوری دے دی ۔ جو مفادات کے ٹکراؤ کی واضح مثال ہے ۔
معلوم رہے کہ اس 28ویں سنڈیکیٹ کا کورم 22 افراد کا تھا جس میں ون تھرڈ کورم مکمل ہونے کے بجائے نصف ممبر اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے ، شریک ہونے والے 9 ممبران یونیورسٹی سے ، ایک گرین وچ یونیورسٹی سے مببر کے علاوہ محمد مرید راہموں آن لائن شریک ہوئے ۔ یعنی کورم نامکمل تھا ۔ جس کے باوجود بھی بھرتیوں کی منظوری دے دی گئی ۔ بعد ازآں آصف حسین سموں ، قرۃ العین نذیر اور محمد نعیم احمد نے خود کو سنڈیکیٹ کے ذریعے اسسٹنٹ پروفسیر بنانے کے بعد خود کو سنڈیکیٹ کا بطور اسسٹنٹ پروفیسر ممبر بھی بنوا لیا ہے ۔

آئینی درخواست میں لکھا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی ڈائریکٹر کیو ای سی میڈم صائمہ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ کو ایک لیٹر لکھ کر کہا تھا کہ مجھے سلیکشن بورڈ کا حصہ نہیں بنایا جا رہا ہے جو اعلی تعلیمی کمیشن کی خلاف ورزی ہے اور اس کے علاوہ مذکورہ بھرتیوں کی اجازت عارضی تھی اور عارضی بھرتی ہونے والے اساتذہ سینیٹ ، سنڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل کے ممبر نہیں بنائے جا سکتے ہیں ۔ جس کے بعد عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں ۔

