Thursday, May 14, 2026
صفحہ اولNewsورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کے بچوں کی اعلی تعلیم میں رکاوٹ...

ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کے بچوں کی اعلی تعلیم میں رکاوٹ بن گیا

ایبٹ آباد : محکمہ محنت خیبر پختون خوا کے ذیلی ادارے ورکر ویلفیئر بورڈ نے فیکٹری مزدوروں کے بچوں کے 20 کروڑ اسکالرشپ روک لیے ہیں ، کامسیٹس ایبٹ آباد کیمپس میں زیر تعلیم 300 طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔

عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبے کی تعلیمی ایمرجنسی بے نقاب ہو کر رہ گئی ہے ، یونیورسٹی انتظامیہ مزدور بچوں کو اپنے وسائل سے کھانا دینے پر مجبور ہے ، ورکر ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخوا کی مبینہ غفلت اور تاخیری حربوں کے باعث کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ایبٹ آباد کیمپس میں زیرِ تعلیم فیکٹری مزدوروں کے 300 سے زائد بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ورکر ویلفیئر بورڈ کے ذمے کامسیٹس ایبٹ آباد کے 20 کروڑ روپے کے اسکالرشپ فنڈز گزشتہ کئی ماہ سے واجب الادا ہیں ۔ یہ تمام رقم صوبے کی مختلف فیکٹریوں میں کام کرنے والے چھوٹے ملازمین کے ان بچوں کی ہے جو ورکر ویلفیئر بورڈ کے تعلیمی وظائف پر انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ کامسیٹس انتظامیہ اپنی مدد آپ کے تحت ان مزدور بچوں کے کھانے پینے اور ہاسٹل کے اخراجات تک برداشت کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ فنڈز نہ ملنے سے طلبہ کے امتحانات، نتائج اور آئندہ سمسٹر میں داخلوں کا عمل بھی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

متاثرہ طلبہ نے ورکر ویلفیئر بورڈ کے رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ بورڈ کے افسران مسلسل حیلے بہانے کر رہے ہیں اور فائلیں دبا کر بیٹھے ہیں۔ طلبہ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ “فنڈز فوری جاری کرو، ورنہ احتجاج ہو گا”۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 20 کروڑ روپے کے اسکالرشپ فوری ریلیز نہ کیے گئے تو وہ کیمپس کے اندر اور صوبائی اسمبلی کے باہر شدید احتجاج کریں ۔ اس واقعے نے خیبرپختونخوا حکومت کے تعلیمی ایمرجنسی کے دعوؤں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک طرف صوبے میں تعلیم کے فروغ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، دوسری طرف غریب فیکٹری مزدوروں کے بچوں کے تعلیمی وظائف تک ورکر ویلفیئر بورڈ جیسے ادارے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ورکر ویلفیئر بورڈ کے تاخیری حربوں سے نہ صرف 300 خاندان پریشان ہیں بلکہ مزدور طبقے کا ریاست اور تعلیمی اداروں پر سے اعتماد بھی متزل ہو رہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ معمولی تنخواہ دار ہیں، اگر اسکالرشپ نہ ملی تو ان کے بچے تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ متاثرہ طلبہ اور والدین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، گورنر اور چیف سیکرٹری سے فوری نوٹس لینے اور 20 کروڑ روپے کے واجبات فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین