ہری پور: یونیورسٹی آف ہری پور میں مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہو ہے اور اساتذہ اور بعض انتطامیہ کے لوگوں کی جانب سے وائس چانسلر کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔
یونیورسٹی آف ہری پور میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک تفصیلی شکایتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے ، جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان اور ان کے قریبی ساتھیوں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔ 26 صفحات پر مشتمل یہ دستاویز 11 مئی 2026 کو گورنر خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کی گئی ۔
دستاویز کے مطابق یہ شکایات یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامی افسران اور ملازمین پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی ہیں، جس میں وائس چانسلر کے دورِ اقتدار 2022 سے 2026 کے دوران ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور قومی خزانے سے خورد برد کی گئی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
رپورٹ میں الزامات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ پہلے حصے میں ڈاکٹر عزیز اللہ پر مختلف انتظامی کمیٹیوں کے ذریعے اختیارات کے ناجائز استعمال، غیرقانونی تقرریوں، غیر شفاف خریداریوں اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ دستاویز کے مطابق ایچ ای سی کی جانب سے انسانی وسائل کی ترقی کے لیے دی گئی 35 لاکھ روپے کی گرانٹ کو مبینہ طور پر دوستوں اور قریبی افراد پر خرچ کیا گیا جبکہ مختلف تربیتی پروگرام میرٹ کے بجائے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر دیے گئے ۔
اسی طرح رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈ لائنز کے برخلاف غیر محدود داخلے دیے گئے ، جس کے باعث کلاسوں میں طلبہ کی تعداد حد سے تجاوز کر گئی اور تعلیمی معیار شدید متاثر ہوا۔ دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض شعبوں میں ایک استاد پر 154 طلبہ کا بوجھ آ گیا جبکہ 60 سے زائد طلبہ کو ایک ہی کلاس میں بٹھایا گیا ۔
شکایت میں یونیورسٹی کے باغبانی منصوبوں، ہربیریم اور “قرآنی گارڈن” کے قیام میں بھی لاکھوں روپے کی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پودوں کی خریداری کے لیے دو ملین روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی جبکہ ٹینڈرنگ کا عمل مکمل نہیں کیا گیا ۔
رپورٹ کے دوسرے حصے میں وائس چانسلر ڈاکٹر شفیق الرحمان پر یونیورسٹی ایکٹ، قواعد و ضوابط اور اکیڈمک پالیسیوں کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں دو سال سے موبائل فون کے ذریعے آن لائن امتحانات لیے جا رہے تھے ، حالانکہ اس حوالے سے کوئی باقاعدہ پالیسی موجود نہیں تھی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ہر امتحانی سیشن میں تقریباً 200 طلبہ کے خلاف نقل کے مقدمات بنتے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی واضح قانونی طریقہ کار موجود نہیں۔
مزید یہ کہ بغیر اکیڈمک کونسل کی منظوری کے کلاس سیکشنز کو ضم کرنے، ایک ہی کلاس میں 180 طلبہ بٹھانے، شعبہ قانون قائم کرنے اور بعض قواعد کو “ہنگامی اختیارات” کے تحت نافذ کرنے جیسے اقدامات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں ۔ اس رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈز کے ریکارڈ کو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت طلب کیے جانے کے باوجود فراہم نہیں کیا گیا، جس سے ریکارڈ میں بعد ازاں ردوبدل اور جعلسازی کے خدشات پیدا ہوئے ۔
رپورٹ میں یونیورسٹی کے وسائل کے ذاتی استعمال، سرکاری گاڑیوں کے مبینہ غلط استعمال، وائس چانسلر کے ذاتی ڈرائیور کی غیرقانونی بھرتی، اسلام آباد میں ذاتی رہائش گاہ پر یونیورسٹی گاڑی رکھنے، غیر ضروری بیرون ملک دوروں اور ذاتی سہولیات پر یونیورسٹی فنڈز خرچ کرنے جیسے سنگین الزامات بھی شامل ہیں ۔
دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائس چانسلر نے ایچ ای سی اور دیگر سرکاری افسران کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کے لیے فیس میں خصوصی رعایت دی تاکہ ان کے خلاف جاری تحقیقات پر اثر انداز ہوا جا سکے ۔
اسی طرح میڈیکل ری ایمبرسمنٹ، سرکاری گاڑیوں کے حادثات کے اخراجات، پودوں کی خریداری، قریبی رشتہ داروں اور پسندیدہ افراد کی تقرریوں، اور یونیورسٹی وسائل کے ذاتی استعمال سے متعلق بھی متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض معاملات پر صوبائی حکومت پہلے ہی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر چکی ہے جبکہ ایک کمیٹی اپنی رپورٹ جمع کرا چکی ہے اور دوسری تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام معاملات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور مبینہ طور پر خردبرد ہونے والی رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرائی جائے۔ اس سلسلے میں نیب، اینٹی کرپشن، آڈٹ حکام اور دیگر اداروں کو بھی ڈوزیئر کی نقول ارسال کی گئی ہیں ۔

