کراچی : انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی جنرل باڈی کا ہنگامی اجلاس آج چائنیز میموریل آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں اساتذہ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ایک ماہ کے دوران یہ جنرل باڈی کا تیسرا اہم اجلاس تھا، جس میں جامعہ کراچی کی موجودہ صورتحال، جاری احتجاجی تحریک اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں اساتذہ کرام نے جامعہ کراچی انتظامیہ کے غیر سنجیدہ رویے، مسلسل تاخیری حربوں اور معاملات کو مؤثر انداز میں حل نہ کرنے کی پالیسی پر شدید تحفظات اور افسوس کا اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے جامعہ کو موجودہ بحران تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، لہٰذا اب حکومتِ سندھ کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔
اساتذہ کرام نے اس امر کا اعادہ کیا کہ احتجاجی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اساتذہ، افسران، ملازمین اور جامعہ کے مالی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر یہ قراردادیں منظور کی گئیں کہ تمام امتحانات کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا، اساتذہ روزانہ صبح 10:30 بجے ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے احتجاج میں شرکت کریں گے، جبکہ رجسٹرار اور سیمسٹر سیل انچارج کے حالیہ خطوط کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کوئی جواب نہ دینے اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ عید کے فوراً بعد جنرل باڈی کا ایک اور اہم اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا جا سکے۔

