ہری پور : یونیورسٹی آف ہری پور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان کے خلاف جمع کرائے گئے 26 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سرکاری گاڑیوں کے مبینہ غلط استعمال، غیرقانونی تقرریوں، ایندھن اور مرمت کے اخراجات میں بے ضابطگیوں سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں ۔
دستاویز میں گاڑیوں سے متعلق لکھا گیا ہے کہ وائس چانسلر کے پاس یونیورسٹی کی نئی گاڑی ہے ۔ جس کے علاوہ بھی وہ تین مذید گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں ۔ گرینڈی GAB-818 کے ڈرائیور مصور ہیں ، حالانکہ یونیورسٹی میں پہلے سے مستقل اور سینئر ڈرائیور موجود تھے ۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی ڈرائیور اجمل کو جون 2022 میں روزانہ اجرت کی بنیاد پر یونیورسٹی میں بھرتی کیا گیا تھا ، حالانکہ اس تقرری کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا ۔اجمل اسلام آباد میں ان کی ذاتی رہائش گاہ پر کام کرتا ہے ۔
الزام ہے کہ اجمل اس سے قبل ڈاکٹر شفیق الرحمان کی ذاتی گاڑی چلاتا تھا اور وائس چانسلر بننے کے بعد بھی وہ بنیادی طور پر انہی کی ذاتی نقل و حرکت کے لیے خدمات انجام دیتا رہا ۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی سرکاری سوزوکی کلٹس گاڑی اسلام آباد کے علاقے ٹاپ سٹی میں واقع وائس چانسلر کی نجی رہائش گاہ پر رکھی جاتی تھی اور وہی ڈرائیور اسے استعمال کرتا تھا ۔

رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر کے زیر استعمال چار سرکاری گاڑیاں ہیں ۔ جن میں ٹیوٹا الٹس A-1160 اور ٹیوٹا ہائی لکس ویگو A-1167 اور ایک بلیک ٹیوٹا کرولا آلٹس گرینڈی GAB-818 شامل ہے جو مبینہ طور پر ہری پور اور اسلام آباد کے درمیان ذاتی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتی رہتی ہیں ۔ چوتھی گاڑی سوزوکی کلٹس G-3172 تھی جو ان کے گھر کے استعمال میں ہے ۔
ٹویوٹا ہائی لکس ویگو کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اسے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ نجی دوروں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ ان گاڑیوں کے لاگ بکس جعلی انداز میں مرتب کیے جاتے تھے تاکہ اصل استعمال چھپایا جا سکے ۔

سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے متعلق ایک اور اہم نکتہ وائس چانسلر کی روزانہ اسلام آباد سے ہری پور آمدورفت ہے ۔ شکایت کنندگان کے مطابق یونیورسٹی میں وائس چانسلر ہاؤس موجود ہونے کے باوجود ڈاکٹر شفیق الرحمان روزانہ اسلام آباد سے سفر کرتے تھے، جس کے باعث ایندھن اور گاڑیوں کی مرمت پر بھاری اخراجات آئے۔
مزید الزام یہ بھی لگایا گیا کہ اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے ایچ ای سی اجلاسوں میں شرکت کے باوجود وہ سرکاری ٹی اے/ ڈی اے کلیم کرتے رہے ہیں ۔ گاڑیوں سے متعلق ایک اور سنگین الزام یہ ہے کہ یونیورسٹی کے وسائل استعمال کرتے ہوئے ایک ٹرک کو بس میں تبدیل کیا گیا جب کہ ایک سوزوکی پک اپ بھی غیرقانونی طور پر حاصل کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق ان دونوں گاڑیوں کو قابل استعمال بنانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے اور اس عمل میں مبینہ طور پر اعلیٰ حکام کو بھی مالی فوائد پہنچائے گئے ۔

شکایت میں وائس چانسلر کی سرکاری گاڑی کے حادثے کا معاملہ بھی شامل کیا گیا ہے ۔ الزام ہے کہ ذاتی استعمال کے دوران ہونے والے حادثے کے بعد گاڑی B-3007 کی مرمت پر آنے والے بھاری اخراجات یونیورسٹی خزانے سے ادا کیے گئے ۔ اس حوالے سے تصاویر کو بطور ثبوت بھی دستاویز کا حصہ بنایا گیا ہے ۔
مزید برآں رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی گاڑیوں کا ریکارڈ، لاگ بکس اور غیر تعطیلاتی دنوں میں استعمال کا ڈیٹا آزادانہ آڈٹ اور تحقیقات کا متقاضی ہے کیونکہ کئی سفری اندراجات مشکوک قرار دیے گئے ہیں۔
شکایت کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کی تمام سرکاری گاڑیوں، ان کے ایندھن، مرمت، لاگ بکس، ڈرائیوروں کی تقرریوں اور سفری اخراجات کا فرانزک آڈٹ کیا جائے تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ آیا سرکاری وسائل کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا یا نہیں ۔

