کراچی : ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ORIC ویلیڈیشن رپورٹ 2024-25 جاری کر دی ہے ، ملکی جامعات کی تحقیقی کارکردگی میں بہتری ریکارڈ ہوئی ہے ۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے ORIC ویلیڈیشن رپورٹ برائے مالی سال 2024-25 جاری کر دی گئی ہے، جس میں ملک بھر کی جامعات کی تحقیق، اختراع، کمرشلائزیشن اور استعداد کار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں تحقیقی سرگرمیوں میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ کئی جامعات نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال جامعات کی جانب سے 9 ہزار 987 تحقیقی تجاویز جمع کروائی گئیں جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد 2 ہزار 237 تھی ۔ تاہم صرف ایک ہزار 250 تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی گئی اور کامیابی کی شرح تقریباً 12.5 فیصد رہی ۔
ایچ ای سی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیق اور اختراع کے شعبے میں بتدریج بہتری دیکھی گئی ہے۔ Innovation & Commercialization سیکشن کی کارکردگی 40.9 فیصد سے بڑھ کر 45.2 فیصد تک پہنچ گئی جب کہ Sustainability & Capacity Building میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر کی جامعات میں 3 ہزار 702 تحقیقی روابط قائم کیے گئے، 1 ہزار 315 اشتراکاتی معاہدے کیے گئے جب کہ 523 مشترکہ تحقیقی منصوبوں پر کام کیا گیا ۔
اس کے علاوہ (Intellectual Property) کے شعبے میں بھی پیش رفت سامنے آئی، جہاں پیٹنٹس اور لائسنسنگ کے معاملات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم ایچ ای سی نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیقی نتائج کو تجارتی سطح پر مؤثر انداز میں منتقل کرنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق بہترین کارکردگی دکھانے والی جامعات میں National University of Sciences and Technology 87 اسکور کے ساتھ سرفہرست رہی ۔ جب کہ NED University of Engineering and Technology نے 86 اور The University of Lahore نے 81.5 اسکور حاصل کیے ۔
سندھ کی جامعات میں Sukkur Institute of Business Administration نے 81 اسکور کے ساتھ نمایاں پوزیشن حاصل کی جب کہ Ziauddin University نے 80.5 اور Sindh Agriculture University نے 65.5 اسکور حاصل کیے۔
دوسری جانب University of Haripur نے 43.5 اسکور حاصل کیے اور اسے Y کیٹیگری میں شامل کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی Human Resource and Operations کارکردگی 95 فیصد رہی جب کہ Research Excellence میں 27.78 فیصد اسکور ریکارڈ کیا گیا۔
ایچ ای سی نے سفارش کی ہے کہ جامعات میں فل ٹائم ORIC سربراہان کی تعیناتی، تحقیقی منصوبوں کی معیاری جانچ، صنعت اور جامعات کے درمیان روابط کے فروغ اور تحقیقی نتائج کی تجارتی بنیادوں پر منتقلی کیلئے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں تحقیق اور اختراع کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

