کراچی : جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران شہر کی مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ جامعہ کراچی کو درپیش سنگین مالی، انتظامی اور تدریسی بحران سے متعلق مؤقف کو وسیع سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
اسی سلسلے میں آج انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے نمائندہ وفد نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کیں جن میں جماعت اسلامی پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) کے رہنما شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں جامعہ کراچی کے موجودہ بحران، اساتذہ و ملازمین کے واجبات، مالی خسارے، انتظامی رویوں اور جاری احتجاجی تحریک کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ نے جامعہ کراچی کی موجودہ صورتحال پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ، افسران اور ملازمین کی جائز جدوجہد کی مکمل اخلاقی و جمہوری حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے اس امر کو خاص طور پر افسوسناک قرار دیا کہ ماضی میں جب جامعہ کراچی میں بیوروکریٹک وائس چانسلر، غیر اکیڈمک انتظامی مداخلت اور مستقل اساتذہ کی جگہ کنٹریکچول ملازمتوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو انہوں نے انجمن اساتذہ کے مؤقف کی حمایت کی تھی۔ تاہم آج یہ دیکھ کر تشویش بڑھ گئی ہے کہ وہی انتظامیہ اور وائس چانسلر اساتذہ، ملازمین اور جامعہ سے وابستہ افراد کے بنیادی حقوق اور قانونی واجبات کی ادائیگی میں رکاوٹ بنتے دکھائی دے رہے ہیں، جو ایک علمی ادارے کے وقار کے منافی ہے۔
انہوں نے جامعہ کے اساتذہ، ملازمین اور افسران سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر جامعہ کراچی کے معاملہ کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے ساتھ ہی انہوں نے عملی طور پر احتجاج میں شرکت کا بھی عندیہ دیا۔
پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) کراچی کے صدر جمیل احمد نے بھی جامعہ کراچی کے مالی بحران اور اساتذہ و ملازمین کو درپیش مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سندھ فوری طور پر جامعہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے تاکہ تدریسی و تحقیقی ماحول مزید متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) سندھ کے اجلاس میں بھی جامعہ کراچی کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وائس چانسلر کے حالیہ طرزِ عمل، اساتذہ پر دباؤ، واجبات کی عدم ادائیگی اور انتظامی رویوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فپواسا سندھ نے اعلان کیا کہ عید کے فوراً بعد فپواسا پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اختیار گھمرو جامعہ کراچی کا دورہ کریں کہ اساتذہ، افسران و ملازمین کے احتجاج میں عملی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لیے عید کے بعد سندھ کی تمام جامعات میں احتجاج کیا جائے گا۔
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے اعلان کیا ہے کہ احتجاجی تحریک بدستور جاری رہے گی اور پیر کے روز جامعہ کراچی میں ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور احتجاجی واک منعقد کی جائے گی جس میں اساتذہ ، افسران، ملازمین، طلبہ نمائندگان اور مختلف شعبہ جات کے افراد بھرپور شرکت کریں گے۔
شرکاء نے واضح کیا کہ یہ تحریک جامعہ کراچی کے مالی، انتظامی اور تدریسی بحران کے حل، اساتذہ و ملازمین کے جائز حقوق کی بحالی اور ادارے کے وقار کے تحفظ کی جدوجہد ہے، جو ہر قسم کے دباؤ، دھمکی یا میڈیا ٹرائل کے باوجود جاری رہے گی۔

