اسلام آباد: وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی (FUUAST) کی سنڈیکیٹ کے کورم سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں کی جانے والی نشاندہی حقائق اور یونیورسٹی کے قانونی و انتظامی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتی۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ قانونی شقوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنڈیکیٹ کے اجلاس مقررہ قانونی تقاضوں کے مطابق منعقد ہوتے رہے ہیں اور اجلاسوں میں مطلوبہ کورم پورا ہونے کے باعث ان کی کارروائی قانونی حیثیت رکھتی ہے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے آرڈیننس 2002 کے تحت سنڈیکیٹ یونیورسٹی کی انتظامی اتھارٹی ہے، جبکہ سنڈیکیٹ کے اجلاس کے لیے کورم اس کے مجموعی ارکان کی تعداد کے نصف پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں کسر کی صورت میں اسے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ دستیاب قانونی ریکارڈ بھی سنڈیکیٹ کے کورم سے متعلق یہی اصول بیان کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق سنڈیکیٹ کے اجلاسوں میں شریک ارکان اور ان کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سینیٹ کے 32ویں اجلاس، منعقدہ 15 جون 2017ء، میں بھی فیصلہ کیا جاچکا ہے، لہٰذا محض ارکان کی شرکت یا تشکیل سے متعلق اعتراضات کی بنیاد پر سنڈیکیٹ کے اجلاسوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا درست نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے ذاتی مفادات کے تحت یونیورسٹی کے انتظامی معاملات، بالخصوص سنڈیکیٹ کی کارروائی، کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق سنڈیکیٹ کے اجلاس مقررہ طریقہ کار اور مطلوبہ کورم کے ساتھ منعقد ہوئے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی آرڈیننس 2002 کی دفعہ 18 کے تحت سینیٹ کو یونیورسٹی کی عمومی نگرانی اور اس کی اتھارٹیز کو جواب دہ بنانے کے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ عدالتی ریکارڈ میں بھی سینیٹ کو یونیورسٹی کی اعلیٰ ترین اتھارٹی قرار دیتے ہوئے دفعہ 18 کے تحت اس کے اختیارات کی وضاحت کی گئی ہے۔
تاہم دفعہ 18(2)(h) کے تحت سینیٹ کا ایک مخصوص اختیار سنڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل کی جانب سے پیش کردہ Statutes اور Regulations کے مسودوں پر غور اور انہیں مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق نمٹانا ہے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کے معاملات میں قانونی حیثیت کا تعین افواہوں یا انفرادی دعوؤں کی بنیاد پر نہیں بلکہ آرڈیننس، متعلقہ قواعد، سینیٹ کے فیصلوں اور سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق سنڈیکیٹ کے آج تک منعقد ہونے والے اجلاسوں کی کارروائی دستیاب ریکارڈ کے مطابق قانونی تقاضوں کے تحت انجام دی گئی ہے، اس لیے ان اجلاسوں کو محض کورم سے متعلق اعتراض کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دینا درست نہیں۔


