اسلام آباد : سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے شعبہ کے لائیڈ ہیلتھ سائنسز کے دو اساتذہ ڈاکٹر جدون خان اور لیفٹننٹ کرنل اسفند کی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ (ڈاکٹر اینا عطا) کے مابین تلخ کلامی کا معاملہ گزشتہ ہفتے پیش آیا تھا جس کے بعد کرنل اسفند یار کی اہلیہ نے ون فائیو کال کی اور بعد ازاں تھانہ ہمک میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی جس کے بعد باقاعدہ تھانہ ہمک میں ایک مقدمہ بھی درج کر لیا گیا تھا ۔
تاہم تھانے میں ڈاکٹر جدون خان نے معذرت کر لی تھی جس کے بعد یونیورسٹی کی انتطامیہ نے ڈاکٹر جدون کے پاس موجود اضافی ایڈمنسٹریشن کا چارج واپس لے لیا تھا اور وہی چارج لیفٹننٹ کرنل اسفند کی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ (ڈاکٹر اینا عطا) کو دے دیا گیا تھا ۔ تاہم بعد ازاں ڈاکٹر جدون خان کی پوری شعبہ کے چیئرمین ہونے کی وجہ سے طلبہ نے ان کے حق میں احتجاج کیا جہاں سے معاملہ آگے بڑھ گیا تھا ۔
ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون خان کی بحالی کے لیے یونیورسٹی کے کچھ طلبہ و طالبات احتجاج کر رہے تھے اس دوران ڈاکٹر آئینہ طلبہ کے پاس سے گزریں یا ان سے بات کرنے پہنچیں، تو احتجاجی طلبہ نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور شدید نعرے بازی کی ۔ اس دوران خاتون نے اپنے شوہر کرنل اسفند یار کو کال کی ، جس کے بعد کرنل اسفند بھی پہنچ گئے اور انہوں نے ہجوم کو پیچھے ہٹانے کیلئے ہوائی فارئرنگ بھی کر دی تاہم طلبہ نے کرنل اسفندیار سے بھی ہاتھا پائی کی ۔
ادھر غیردہ فاروقی اور بلال غوری سمیت کئی صحافیوں نے لکھا ہے کہ اس واقعے میں فوجی وردی کے ڈسپلن کی خلاف ورزی اور سرکاری اسلحے کے استعمال پر اعلیٰ حکام نے فوری ایکشن لیا ہے ۔ لیفٹننٹ کرنل اسفند اس وقت تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات جاری ہیں ۔ تاہم اس کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔
یونیورسٹی کے طلبہ کا واضح جھکاؤ مرد استاد کی جانب سے تھا جس کی واضح وجہ استاد کا اخلاقی اور طلبہ کے ساتھ معاون ہونا ظاہر ہوتا ہے ۔ تاہم بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جدون خان انتظامی عہدے پر ہوتے ہوئے بس اور دیگر فیسوں میں رعایت اور قسطمیں کر دیتے تھے جس کی وجہ سے طلبہ ان سے خوش تھے ۔ اس سارے واقعہ پر یونیورسٹی کی انتظامیہ سے متعدد بار رابطہ کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے ۔


