کراچی : جامعہ کراچی کے آفس آف ریسرچ انوویشن کمرشلائزیشن (ORIC) کی ڈائریکٹر حورالعین کی توسیع تمام تر کوششوں کے باوجود نہ ہو سکی ، یوں اورک کی تاریخ ک کے برے ترین دو سال اختتام پذیر ہو گئے ۔ جس کے بعد اب قائم مقام وائس چانسلر نے رجسٹرار جامعہ کراچی کے شعبہ فزکس سے ڈاکٹر نعیم کو مکمل اختیارات دیکر قائم مقام ڈائریکٹر اورک تعینات کر دیا ہے ۔
جامعہ کراچی میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی شاگرد ، متعدد ریسرچ پیپر ان کے ساتھ لکھنے والی ڈائریکٹر ORIC حورالعین کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں ہو سکی ۔ جامعہ کراچی کے شعبہ فزیکس کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم کو اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے ۔
موجودہ اضافی چارج کے حامل وائس چانسلر نے مبینہ خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کنٹریکٹ میں توسیع کر دی جائے ، تاہم ہائیر ایجوکیشن کمیشن سندھ نے جامعہ کراچی کے حوالے سے سی آئی سی کی رپورٹ دکھا دی ، جس پر موجودہ وائس چانسلر بھی خاموش ہو گئے اور یوں انہوں نے حورالعین کی جگہ شعبہ فزکس کے پروفیسر کو اضافی چارج دے دیا ہے ۔
سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل سینڈیکیٹ کا اجلاس طلب کیا تھا ، جس میں انہیں کنفرم کرنے کے ساتھ گریڈ 20 میں تعینات کیا جانا تھا ۔ تاہم سندھ حکومت نے رکاوٹ ڈال دی اور نوٹیفکیشن جاری کیا کہ مستقل وائس چانسلر ہی اس سینڈیکیٹ کے اجلاس کے ایجنڈے کی منظوری حاصل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے دو سال کے لئے تعینات ڈائریکٹر اورک کی 50 فیصد امیدیں ختم ہو گئی تھیں تاہم پھر بھی کنٹریکٹ میں توسیع کی امیدیں قائم تھیں جو گزشتہ روز ختم ہو گئیں ۔
واضح رہے کہ ORIC کا مقصد ریسرچ انڈسٹریز کو جامعہ سے منسلک کرنا تھا ، لیکن یہاں گزشتہ دو برس میں صرف انڈسٹریز کے ساتھ مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط اور زاتی تعلقات بنانے کے علاوہ کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔ جیسے ہی ڈائریکٹر اورک تعینات ہوئی تھیں اس کے بعد انہوں نے پرانے ملازمین کو تنگ کیا جس کی وجہ سے منیجر اسماعیل کے علاوہ سب ملازم چھوڑ گئے تھے ، اس کے بعد نئی ٹیم بنائی تھی جس میں ریسرچ ایسوسی ایٹ مریم ، سحر کے علاوہ چار لوگ ہیں جب کہ۔ پبلیکشن اسپیشلسٹ کی پوسٹ ختم کر دی تھی جو دیگر کئی جامعات میں یہ پوسٹ موجود ہے ۔
جامعہ کراچی کے اورک ڈیپارٹمنٹ میں زولوجی ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر عالیہ کی تعیناتی کا دور اور اس کے بعد ڈاکٹر بلقیس گل کا دور اچھا دور تصور کیا جاتا ہے ، جس میں اساتذہ و ملازمین بھی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ تعاون کرتے اور لیتے رہے ہیں ۔ جامعہ کراچی کے ملازمین کے مطابق ڈاکٹر بلقیس گل سمجھ دار اور ہر استاد و ملازم کی بات سننے والی ڈائریکٹر تھیں اور زولوجی ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر عالیہ کے دور مین اورک کا کام اچھا رہا ہے ۔
جامعہ کراچی کے اساتذہ نیشنل ریسرچ پروجیکٹ یونٹ ( این آر پی یو ) سے از خود ریسرچ حاصل کرتے ہیں اور از خود فنڈنگ کی کوششیں کرتے ہیں ۔ ORIC کی ڈائریکٹر کی نااہلی کے باعث جامعہ کراچی دنیا بھر کی ریسرچ جامعات کے بجائے صرف ڈگری فراہم کرنے والا ایک ادارہ بن گئی ہے ، جس کی وجہ سے جامعہ کراچی میں داخلے کے لئے آنے والے طالب علموں کا رجحان ہر برس کم ہو رہا ہے ۔


