ڈاکٹر عابدہ پروین زوجہ ڈاکٹر شمس الدین ،شعبہ ابلاغیات جامعہ کراچی ، 2016 سے شیخ زاید سینٹر جامعہ کراچی کی غیر قانونی طور پر ایکٹنگ ڈائریکٹر کے عہدہ پر قابض ہیں ۔
یاد رہے کہ یہ نااہل اور چہیتی خاتون ایک بھاری سفارش کی بدولت شیخ زید اسلامی مرکز کی تین سینئیر خاتون اساتذہ کو پھلانگتے ہوئے ڈائریکٹر بننے میں کامیاب ہوگئی تھیں ۔ پھر ایکٹنگ ڈائریکٹر کے باوجود اختیارات کا بھرپور طور پر ناجائز استعمال کرتے ہوئے مسلسل قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔
قانونی طور پر ایکٹنگ پوسٹ صرف تین ماہ کے مختصر عرصہ کے لئے ہوتی ہے اور عارضی منصب پر بیٹھا کوئی فرد صرف اور صرف روزمرہ امور نمٹا سکتا ہے ۔ لیکن عابدہ پروین نے نا صرف یہ کہ غیر قانونی طور یہ منصب پر گزشتہ 6 برس سے اپنے پاس رکھا ہوا ہے بلکہ اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے من پسند اور نا اہل ملازمین کو غیر قانونی ترقیاں بھی دے رہی ہیں اور غیر قانونی بھرتیاں بھی کر رہی ہیں جو ہر گز ان کے اختیارات میں شامل نہیں ہے ۔
مزید پڑھیں:قادیانی وکیل کے مقدمات کا اصل منظر نامہ اور سیکشن 298 کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟
ان انتہائی بااثر خاتون ڈائریکٹر کی دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2014ء میں انہوں نے غیر قانونی طور پر خود کو ایسوسی ایٹ پروفیسر بنوایا ۔
اس سال مارچ میں انہوں نے اپنا غیر قانونی فل پروفیسر شپ کا سلیکشن بورڈ منعقد کروایا اور پھر اسے بورڈ آف گورنرز سے سے منظور کروانے کے لیے 10 مئی 2023 ء کو شیخ زید اسلامی مرکز کے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ بھی طلب کی ۔۔جس کے خلاف شیخ زید اسلامی مرکز کے ایک ملازم اسسٹنٹ لائیبریرین جاوید عالم نے سندھ ہائیکورٹ میں اس اقدام کے خلاف درخواست دائر کی جس پر سندھ ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس جناب عرفان سعادت نے بورڈ آف گورنرز کر کالعدم قرار دیدیا ۔۔
ملاحظہ کیجئیے جج عرفان سعادت کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا فیصلہ ۔۔فیصلے کی کاپی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر آفس اور متعلقہ دفاتر میں جمع کرادی گئی ہے ۔ جسے رجسٹرار نے وصول کرنے سے انکار کردیا ہے جس پر قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے انہیں کوریئر کے ذریعہ فیصلہ ارسال کیا گیا ہے ۔
مزید پڑھیں:گورنمنٹ پی ای سی ایچ ایس فاؤنڈیشن کالج کسی کو گود لینے نہیں دیں گے، سپلا
دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے متعلقہ ذمہ داران کو بھی ٹی سی ایس کے ذریعہ مطلع کردیا گیا ہے ک ۔ تاکہ انہیں بھی سندھ ہائیکورٹ کے اس اہم فیصلے کا علم ہو سکے ۔

