Saturday, March 21, 2026
صفحہ اولتازہ ترینقادیانی وکیل کے مقدمات کا اصل منظر نامہ اور سیکشن 298 کو...

قادیانی وکیل کے مقدمات کا اصل منظر نامہ اور سیکشن 298 کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟

اس بات کو سمجھنے اور لوگوں کو سمجھانے کے لئے پہلے ایک چیز اپنے دماغ میں بٹھا لیں کہ قادیانی چاہے وکیل ہو، جنرل ہو، جج ہو، جنرلسٹ ہو بیروکریٹ ہو، سیاست دان ہو یا کوئی بھی ہو، 1973 کے آئین اور امتناع قادیانیت آرڈیننس اسلامی جمہوریہ پاکستان 298C, 298B کے تحت وہ اہلِ بیت وصحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلیفہ وامیر المومنین سے اپنی نسبت تحریر نہیں کرسکتا۔

 

قادیانی وکیل علی احمد طارق کا معاملہ یہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا وکیل ہے، یہ وکیل قادنیوں کے مقدمہ میں وکیل بن کر آتا ہے اور سپریم کورٹ کا وکیل بھی ہے اپنے آپ کو فخر سے قادیانی کہلواتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے وکالت نامے پر سید بھی لکھتا ہے۔

 

اس پر پہلی مرتبہ شہداد پور میں FIR کاٹی گئی اور اس کیس میں ابھی تک وہ شخص مفرور ہے۔ یہ پھر وہی جرم کراچی میں کر رہا ہے کراچی میں بھی اس ملعون قادیانی پر مقدمہ 172/22 درج کروایا گیا۔

مزید پڑھیں:گورنمنٹ پی ای سی ایچ ایس فاؤنڈیشن کالج کسی کو گود لینے نہیں دیں گے، سپلا

ہائی کورٹ نے اس ملعون کی ضمانت منظور کی، (یعنی عدالت ضامن بنی کہ اب یہ جرم نہیں کرے عدالت مدعی کو ضمانت دیتی ہے) لیکن تیسری مرتبہ وہی جرم دہراتا ہے جس پر تیسرا مقدمہ 53/2023 درج ہوتا ہے۔

 

اب اس کی پہلی بیل لوور کورٹ کے بجائے براہ راست ہائی کورٹ میں جسٹس عمر سیال کے پاس لگائی گئی ہے۔

 

وہ بیل SHCBA, کراچی کے سابقہ صدر صلاح الدین احمد نے لگائی ہے جو عاصمہ جہانگیر کا بھانجا ہے اور مشہور زمانہ لبرل جبران ناصر اس کیس کو سننے والے جج عمر سیال کی اس موضوع پر تعریف بھی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:نیشنل اکیڈیمی آف ہائیر ایجوکیشن نے آئی پی ایف پی فیلوز کے پہلے بیچ کی تربیت کا آغاز کر دیا

یاد رہے کہ صلاح الدین کے ساتھ پاکستان کے آئین کی بالادستی کے نعرے لگانے والے دراصل اپنے ذاتی مفادات کی بنیاد پر آئین اور دیگر دفعات کی قانون شکنی کرتے نظر آرہے ہیں اور جو ججز اپنی ذاتی مفادات کی وجہ سے آج کے موجودہ آئینی کرائسز کے ذمہ دار ہیں وہ اپنی جاری کردہ حکم نامہ میں محنت ومشقت کرنے والے وکلاء جو کہ ناموس رسالت پر اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج ہر پلیٹ فارم پر ریکارڈ کرواتے رہے ہیں۔

 

مگر وہ مفاد پرست ججز ناموس رسالت پر مرمٹنے والے وکلاء پر نازیبا زبان استعال کرتے ہیں ان کا اپنے وکلاء کے ساتھ یہی رویہ Conduct disgracive behaviour ہے جو کہ پاکستان کی جوڈیشلی کو 130 نمبر پر لائی ہے جو کہ دنیا میں پاکستان کی ساری لیگل ٹیم کے لئے ایک شرم ناک کالا اور بدنما داغ ہے۔

 

ہم سپریم جوڈیشل کونسل کو درخواست کرتے ہیں کہ ججز کی تقرری میرٹ کی بنیاد پر کی جائے اور اس کیس میں سماعت کرنے والے جج کا متنازعہ کردار ری چیک کیا جائے۔

مزید پڑھیں:میٹرک کے امتحانات میں 59 امیدوار نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے

یہ کونسا انصاف ہے کہ ہر شہری 497 قانون کے مطابق لوئر کورٹ سے پہلے ضمانت لے مگر ملعونوں کیلئے بائی پاس کرکے ڈائریکٹ ہائی کورٹ سے بیل لی جاتی ہے اکثر اوقات بار بار توہین عدالت کا کہتے ہیں مگر کل کائنات رسول اللہ ﷺ کیلئے بنی ہے جب معاملہ ملعون شاتم رسول کا آتا ہے تو یہی عدالتیں آئینی حقوق “سپریمیسی آف لاء” کا ڈھول بجاتے نظر آتے ہیں۔

 

ہم تمام مسلمان وکلاء MBA, KBA, SHCB, SBC, SCPBA, PBC etc اور پاکستان کی تمام بار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ناموس رسالت میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور ایسے شر پسند قادیانی عناصر جو آئین پاکستان ہی کو نہیں مانتے ان کو لگام دیتے ہوئے قانون کے کٹہرے میں لائیں۔

 

قادیانی خود کو نہ اقلیت مانتے ہیں نہ آئین پر عمل کرتے ہیں تو آئین کے محافظ ادارے اور افسران بجائے ان کی سرزنش کرنے کے اگر ان کو ذاتی مفادات کے تحت رعایتیں دیں گے تو پھر عدالتوں پر اعتماد کون کرے گا؟

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین