پشاور : مالاکنڈ یونیورسٹی میں تین سلیکشن بورڈ کیخلاف شکایات کے انبار لگ گئے ‛ لیکچرار کو براہ راست پروفیسر بھرتی کر لیا ‛ استاد اسسٹنٹ پروفیسر اور شاگرد پروفیسر بنا دیئے گئے ‛ وزیر تعلیم مینا خان آفریدی نے ایک سلیکشن بورڈ پر کمیٹی بنا کر معاملات کو دبا دیا ہے ۔
ایجوکیشن نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق خیبر پختون خوا میں عمران خان کے صاف شفاف نظام تعلیم اور کرپشن سے پاک تحقیقی ماحول کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں ۔ مالاکنڈ یونیورسٹی میں تعلیمی کرپشن کی شکایات موصول ہونے کے باوجود وزیر اعلی سہیل خان آفریدی اور مینا خان آفریدی نے متاثرین کی داد رسی نہیں کی ہے ۔
دستاویزات کے مطابق مالاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رشید احمد کو محمود خان نے پڑوسی ہونے کی وجہ سے 85ویں نمبر پر ہونے کے باوجود وائس چانسلر تعینات کیا تھا۔ جنہوں نے دسمبر 2024 اور ستمبر 2025 کے علاوہ دسمبر 2025 کو سلیکشن بورڈ منعقد کرایا جس کی سکروٹنی اینڈ کوانٹیفکیشن کمیٹی ہی متنازعہ بنائی گئی ۔ کمیٹی میں متعلقہ ڈین کے بجائے دوسرے شعبہ جات کا ڈین ممبر بنایا گیا ۔جس کی وجہ سے سکروٹنی ہی غلط کی گئی ہے اور میرٹ کو نظر انذاز کیا گیا ہے ۔
درجنوں شکایات میں چند کیمطابق اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی میڈم نفیس کو گریڈ 18 کے لیکچرار سے براہ راست گریڈ 21 پر پروفیسر بنا دیا گیا ۔ جبکہ ان کے استاد اکرام اللہ ایم فل اور PhD طلبہ تیار کرنے کے باوجود پروفیسر نہیں بنائے جا سکے ۔
ستمبر 2024 کے بورڈ میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر طارق خان کو لیکچرار سے اٹھا کر براہ راست پروفیسر بنا دیا گیا ۔ ستمبر 2025 کے بورڈ میں کامرس اینڈ مینجمنٹ سائنس کے ڈاکٹر الطاف حسین کو اسسٹنٹ پروفیسر سے پروفیسر بنا دیا گیا ۔
ستمبر 2025 کے سلیکشن بورڈ میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے جہانگیر کو اسسٹنٹ پروفیسر گریڈ 19 سے براہ راست پروفیسر بنا دیا گیا ۔ دسمبر 2025 کے بورڈ میں ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے محمد حنیف خان کو اسسٹنٹ پروفیسر گریڈ 19 سے براہ راست پروفیسر بنا دیا گیا ۔ لاء ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر پروین گل کو PhD نمبر نہ دیکر عمران کو لیکچرار سے اٹھا کر براہ راست ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا دیا گیا ہے ۔
حیران کن طور پر سلیکشن بورڈ میں PhD کا خیال رکھا گیا ۔ عمر کا لحاظ کیا گیا ۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ تیار کرنے کو ملحوظ رکھا گیا نہ ہی انٹرویوز کے مکمل نمبر دیئے گئے ہیں ۔ اس حوالے سے متعدد شکایات ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور وزیر ہائر ایجوکیشن مینا خان آفریدی اور وزیر اعلی KPK سہیل خان آفریدی کو کی گئی ہیں ۔ تاہم مینا خان آفریدی نے صرف دسمبر 2025 کے سلیکشن بورڈ کیخلاف انکوائری کمیٹی وائس چانسلر کی ایماء کے مطابق تشکیل دی ہے ۔
اس حوالے سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رشید احمد کا موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا ۔ تاہم ان کا موقف ملنے پر شائع کر دیا جائے گا ۔

