تحریر : مشرف ہزاروی
اس نوٹیفکیشن کے مطابق کوئی بھی مرد مہمان کسی بھی گرلز سکول کے کسی بھی فنکشن میں شرکت نہیں کر سکتا ۔ چاہے وہ MPA ہو یا تعلیمی افسر ۔ مگر شاید صوبائی وزیر تعلیم کو اپنے حلقے اور ضلع کی قائمقام ڈی ای او فیمیل ہری پور کی غفلت و نااہلی کا علم نہیں جو مردوں کو خانپور کے ایک گورنمنٹ گرلز سکول میں بلا کر بیگ تقسیم کرواتی رہی ہے ۔
ایسا کرنا اس نوٹیفیکیشن کی صریحا خلاف ورزی ہے اور دھڑلے سے یہ سب کچھ محکمہ تعلیم ہری پور فیمیل کے آفیشل پیج پہ بھی ڈالا گیا مگر صوبائی وزیر تعلیم کو پھر بھی خبر نہیں یا انھیں اس نوٹیفیکیشن کا علم ہی نہیں ۔ کیا صوبائی وزیر تعلیم اس خلاف ورزی کا نوٹس لے سکیں گے، یہ بیگ خواتین مہمان بھی تقسیم کر سکتی تھیں ۔
وزیر تعلیم صاحب لوگ کہتے ہیں بالخصوص جو آپ سے مل چکے ہیں کہ ارشد ایوب خان غلط کار یا غلط کاریوں پہ کمپرومائز نہیں کرتے ۔ سو صرف یہ چیک کروا لیں کہ ڈپٹی ڈی ای او محترمہ جو گذشتہ چھ سات سال سے ایک ہی تعلیمی دفتر میں تعینات ہیں ۔ انہیں اتنا لمبا ٹینور کس بنیاد پر دیا گیا ۔ ؟
کلیریکل اسٹاف/ آفیشلز کے لیے بھی محکمہ تعلیم نے دو سالہ ٹینور پالیسی رکھی ۔ جس پر ہری پور میں عملدرآمد نہیں ہو رہا ۔ خود یہی ایکٹنگ ڈی ای او بھی اپنے دفتر میں یہ پالیسی نافذ نہیں کروا سکی کہ دو سال تعلیمی دفتر میں گزارنے والا اسٹاف سکولوں کو بھجوایا جاتا ہے ۔ کیا صوبائی وزیر تعلیم کے نوٹس میں یہ سب کچھ نہیں؟ کیا صوبائی وزیر تعلیم اسی فیمیل آفس کے معاملات و نظم و نسق سے آگاہ ہیں کہ کیا ہونا چاہئے اور کیا ہو رہا ہے؟
وزیر تعلیم صاحب مرد مہمانوں کو خانپور کے گرلز سکولوں میں بلا کر حکومتی نوٹیفکیشن کی دھجیاں بکھیرتے والی ایکٹنگ ڈی ای او فیمیل ہری پور سے باز پرس کی جائے کہ اس نے کو اختیار کے تحت مرد مہمان گرلز سکول میں بلائے؟ کیا خواتین مہمان نہیں ہو سکتیں؟ ۔

کیا انھیں اپنی سیٹ بچانے کے لیے کسی کی خوشنودی چاہئے؟ کیا ہری پور کو فل فلیج اور دیانتدار و فرض شناس ڈی ای او فیمیل دینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟ اپ تو وزیر تعلیم ہیں ۔ جس طرح اشرف صاحب جیسا صوبے کا مثالی تعلیمی افسر آپ نے ضلع ہری پور کو دیا ۔ ہم نے بھی لوگوں نے بھی آپکے اس اقدام کو خوب سراہا کیا آپ ایسی ہی ڈی ای او فیمیل ہری پور کو نہیں دلوا سکتے؟۔
وزیر تعلیم صاحب مہربانی فرمائیں ۔ ہری پور کو DEO فیمیل بھی دیں اور دفتری معاملات کا جائزہ لیں ۔ یہ آپکا ہوم ڈسٹرکٹ ہے ۔ کیا سب کچھ بہترین انداز میں ہے یا نہیں ۔ اگر نہیں تو اسے بھی بہترین بنائیں ۔
یہ محترمہ پہلے سرائے صالح سرکل میں گیارہ سال اور اب ہری پور تعلیمی دفتر میں مسلسل چھ سات سال لگا چکی ہیں ۔ اگر تو یہ تنویر صاحب یا آخرت صاحب کی طرح قابل، باصلاحیت اور دیانتدار ہوتیں تو پھر بھی بات بنتی تھی مگر ان جیسا افسر کم ہی کسی ضلعے میں بالخصوص ہری پور میں اپنا ٹینور بمشکل پورا کرتا ہے ۔ بلکہ بعض کو تو دوسرے مہینے ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے وہ بھی بغیر کسی وجہ کے ۔امید ہے وزیر تعلیم خصوصی توجہ فرمائیں گے ۔

