کراچی : انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے جنرل باڈی اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا ہے کہ کیمپس میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق فوری بحال اور سالوں سے رکے واجبات کی فی الفور ادائیگی کی جائیں ۔ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں جمعرات 30 اپریل یوم سیاہ اور بھرپور احتجاج کے ساتھ 5 مئی سے منعقد ہونے والے امتحانات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق 21 اپریل 2026ء کو انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کا جنرل باڈی اجلاس جامعہ کراچی کے تاریخی آرٹس آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس میں اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ جنرل باڈی اجلاس میں جامعہ کی مجموعی مالی صورتحال خاص طور پر اساتذہ کے واجبات کے بڑھتے ہوئے حجم پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسے انتظامیہ کی نااہلی قرار دیا گیا ۔
جنرل باڈی اجلاس میں مختلف واجبات جن میں ہاؤس سیلنگ کی نئی شرح کے اطلاق و ادائیگی، ایوننگ کی گزشتہ کئی سالوں کی واجب الادا ادائیگیوں، لیو بیلنس کے حساب سے لیو انکیشمںٹ، کاپی چیکنگ، پی ایچ ڈی/ایم فل اساتذہ و ممتحن کے مشاہروں کی ادائیگیوں، ٹیکس ریبیٹ کی بحالی سمیت دیگر مطالبات کیے گئے۔
اجلاس میں جامعہ کراچی کے بجٹ کا جائزہ لے کر اس میں موجود نقائص کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس نے اپنے مطالبات کے فوری حل کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات 30 اپریل کو جامعہ کراچی میں یوم سیاہ اور ایک بھرپور مظاہرے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس نے متفقہ طور پر یہ بھی فیصلہ کیا کہ اگر ان سب ڈیڈ لائنز کے باوجود مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکی تو جامعہ کراچی کے اساتذہ 5 مئی سے منعقد ہونے والے سیمسٹر امتحانات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں گے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ان تمام احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وائٹ پیپر اور انتظامی بے قاعدگیوں سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ اجلاس عام نے سینٹرز کے مالی و انتظامی مسائل کو بھی فی الفور حل کرنے کے مطالبہ کے ساتھ ریٹائرڈ ملازمین اور معاہداتی اساتذہ کے واجبات کی بروقت ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا۔ آخر میں تمام اساتذہ نے شدید بد انتظامی پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ سے توجہ کا مطالبہ کیا۔

