Saturday, June 27, 2026
صفحہ اولNewsملکی جامعات کے فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز کے پروگراموں کیخلاف FIA...

ملکی جامعات کے فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز کے پروگراموں کیخلاف FIA کی انکوائری

کراچی : فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی نے سرکاری و نجی جامعات میں فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز کی ہائر ایجوکیشن پالیسیوں میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں کیخلاف انکوائری شروع کر دی ہے ۔ اس شعبہ میں غیر قانونی بھرتیوں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی پالیسیوں کی سنگین خلاف ورزیوں پر لاہور جی سی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اعظم کی درخواست پر کی انکوائری شروع کی گئی ہے ۔ 

ڈاکٹر محمد اعظم نے مختلف اتھارٹیز بشمول چیئرمین HEC اور FIA حکام کو لکھا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں (HEIs) میں فیزیکل ایجوکیشن اور اسپورٹس سائنسز کے پروگرام شروع کرنے ، داخلے دینے اور ان میں فکلیٹی کی بھرتیاں کرنے میں شدید بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں ۔ کیونکہ کسی بھی سرکاری شعبہ میں پالیسی کیمطابق فیکلٹی کی بھرتی کیلئے اشتہار ، جانچ پڑتال (اسیسمنٹ) اور سلیکشن بورڈ کا ہونا لازمی ہے ۔

اس معیار کو پورا کیے بغیر ہیلتھ سروسز اکیڈمی (HSA) اسلام آباد نے پہلے ایک فکلیٹی ممبر (ڈاکٹر اعجاز اصغر) کو بھرتی کیا، وہ پہلے جی سی یونیورسٹی لاہور نے پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت سرکاری ملازمت سے اس شرط کے ساتھ برطرف کیا گیا تھا کہ جی سی یونیورسٹی لاہور سے کلیرنس حاصل کیے بغیر کوئی دوسری سرکاری نوکری جوائن نہیں کر سکتا تھا۔ تاہم این او سی، اشتہار، اور سلیکشن بورڈ کے بغیر ہی ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے ان کو پروفیسر بھرتی کر لیا۔

اسی مبہم طریقہ کار سے ڈاکٹر اعجاز اصغر کو ہیلتھ سروسز اکیڈمی (HSA) میں مبینہ غیر قانونی بھرتی کئے بعد ہیلتھ، فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز (HPESS) کا پروگرام شروع کیا گیا ، جس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے کرنے کیلئے HEC کا این او سی بھی حاصل کر لیا گیا ۔

ادھر یہ بھی درخواست میں لکھا گیا کہ ایچ ای سی کی پالیسی کے مطابق، مستقل بنیادوں (فل ٹائم) پر ہائر کیا گیا فیکلٹی ممبر ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر فل ٹائم ملازمتیں نہیں کر سکتا ۔ کیوں کہ کچھ لوگ مبینہ طور پر اسکول ایجوکیشن، پولیس سروس میں فل ٹائم ملازمتیں کرتے ہیں اور ساتھ ہی کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں بطور فل ٹائم فیکلٹی پڑھا بھی رہے ہیں ۔ ایچ ای سی سرکاری اور نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو آنکھیں بند کر کے این او سیز جاری کر رہا ہے ، جس کے خلاف انکوائری کی جانی چاہئے ۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد نے ہیلتھ، فزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس سائنسز (HPESS) کا پروگرام شروع کرنے کیلئے 4 مزید فکلیٹیز کو بھرتی کیا۔ جس کے لئے کوئی بھی سلیکشن بورڈ نہیں کیا گیا ۔ جن میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر صفدر لقمان ، اسسٹنٹ پروفسیر ڈاکٹر عالیہ ، ڈاکٹر حبیب اللہ اور ڈاکٹر معظم تنویر شامل ہیں ۔ ۔

اس کے علاوہ کچھ دوسرے اداروں نے ایچ ای سی کو گمراہ کن معلومات دیکر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کیلئے این او سی حاصل کیا ، جس کے بعد ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے دیئے گئے ۔اس کے بعد اس شعبہ میں جو داخلے دیئے ہیں ، وہ بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی کیخلاف ہیں۔ کیونکہ کسی بھی ایم فل پروگرام کیلئے دو اور پی ایچ ڈی پروگرام کیلئے 3 پی ایچ ڈی فکلیٹی ممبرز ہونا ضروری ہیں ۔ جس کے بعد ایچ ای سی کی پالیسی کیمطابق یہ ایک پی ایچ ڈی فکلیٹی 7 ایم فل اور 5 پی ایچ ڈی طلبہ کو سپروائز کر سکتا ہے ۔ یعنی ایک فکلیٹی ممبر 12 طلبہ کو بیک وقت سپروائز کر سکتا ہے ۔

تاہم ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے علاوہ گومل یونیورسٹی ، جامعہ پنجاب ، جامعہ کراچی، اور یونیورسٹی آف لاہور کے شعبہ فیزیکل ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس کے پروگرام شروع کرتے وقت اس پالیسی کی واضح خلاف ورزری کی جاتی رہی ہے ۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا ۔تاہم گومل یونیورسٹی کے اسی شعبہ میں 3 پی ایچ ڈی فکیلٹی ہیں جنہوں نے 15 پی ایچ ڈی کے طلبہ رکھنے کے بجائے 90 سے زائد طلبہ کو داخلے دیئے تھے ۔

اسی طرح جامعہ پنجاب کے فیزیکل ایجوکیشن اور اسپورٹس سائنسز کے شعبہ میں متعلقہ مضمون میں پی ایچ ڈی فکلیٹی کے بغیر ہی 2018 تک نہیں تھا ، جس کے باوجود 4 طلبہ کو اسی شعبہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کی گئی اور اب وہی چاروں طلبہ پی ایچ ڈی مکمل کر کے وہیں پر فکلیٹی ممبرز بن گئے ۔

جامعہ کراچی میں فیزیکل ایجوکیشن اور اسپورٹس سائنسز کا ایم فل اور پی ای ڈی پروگرام شروع کرتے وقت کوئی بھی پی ایچ ڈی فکلیٹی نہیں تھا ۔ موجودہ کے پروفیسر بننے کے بعد ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے ہوئے ، ان میں موجودہ پروفیسر اکیلے ہی پروگرام کو چلا رہے تھے۔ ان کی اپنی پی ایچ ڈی کیسے مکمل ہوی وہ بھی مبہم ہے۔ اس ساری صورتحال کی وجہ سے متعدد جامعات میں فیزیکل ایجوکیشن اور اسپورٹس سائنسز کی اہمیت کو خراب کیا گیا ۔

ڈاکٹر محمد اعظم نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کو شکایات کیں ، جس کے بعد یادہانی کے خطوط لکھے ۔ اور اس کے علاوہ وفاقی سیکرٹری وزارت تعلیم ،وفاقی وزیر تعلیم سمیت دیگر اداروں کو بھی خطوط لکھے ، تاہم ایف آئی اے کو شکایت کرنے کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے اس معاملے پر انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
Are you human? Please solve:Captcha


مقبول ترین