صفحہ اولNewsایسوسی ایٹ پروفیسر کی بھرتی روکنے پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کو...

ایسوسی ایٹ پروفیسر کی بھرتی روکنے پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کو عدالت میں سُبکی کا سامنا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (AIOU) میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی تعیناتی کے حوالے سے دائر رٹ پٹیشن (Writ Petition No.5124 of 2025) پر ایک تفصیلی اور اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے امیدوار ڈاکٹر حنا نور کی درخواست مسترد کرنے کا یونیورسٹی کا 13 نومبر 2025 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو 30 دن کے اندر معاملے پر دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا ہے۔

ڈاکٹر حنا نور 2021 سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسپیشل ایجوکیشن میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر (BPS-19) خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے مشتہر کردہ عہدے کے لیے درخواست دی تھی جسے یونیورسٹی نے 16 جولائی 2025 کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری “اسپیشل ایجوکیشن” کے بجائے “ایجوکیشن” میں ہے۔ 13 نومبر 2025 کو ان کی حتمی اپیل بھی مسترد کر دی گئی ۔

پٹیشنر نے موقف اختیار کیا کہ ان کے پی ایچ ڈی مقالے کا موضوع سماعت سے محروم بچوں (Profoundly Hearing-Impaired Children in Punjab) کی بحالی سے متعلق تھا، جو مکمل طور پر اسپیشل ایجوکیشن کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ ڈگری جاری کرنے والے ادارے، فاؤنڈیشن یونیورسٹی راولپنڈی کیمپس نے بھی ان کی اس تخصیص (Specialization) کی تصدیق کی تھی ۔

ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2018 کے ایک فیصلے (2018 SCMR 1191) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ پی ایچ ڈی کی مہارت کا تعین محض ڈگری پر لکھے الفاظ (Nomenclature) سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا فیصلہ ریسرچ اور مقالے (Thesis/Dissertation) کے موضوع کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے ۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر اسی تعلیمی قابلیت اور مقالے کی بنیاد پر امیدوار کو اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کے لیے اہل سمجھا گیا تھا اور وہ فرائض سرانجام دے رہی ہیں، تو اب اگلے اعلیٰ عہدے کے لیے بغیر کسی ٹھوس جواز کے اسی ڈگری کو غیر متعلقہ قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے ۔

عدالت نے واضح کیا کہ وہ امیدوار کی براہ راست تعیناتی کا حکم نہیں دے رہی ۔ تاہم عدالت نے یونیورسٹی کی مجاز اتھارٹی کو پابند کیا ہے کہ وہ امیدوار کی ریسرچ، تھیسس، اور ایچ ای سی (HEC) کے وضع کردہ قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے امیدوار کی اہلیت کا دوبارہ جائزہ لے ۔ عدالت نے اس عمل کو مکمل کر کے 30 دن کے اندر ایک مفصل اور تحریری فیصلہ جاری کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
Are you human? Please solve:Captcha


مقبول ترین