کراچی : وفاقی اردو یونیورسٹی کی انجمن اساتذہ (عبدالحق کیمپس اور گلشن اقبال کیمپس) کے نمایندہ وفد نے ڈپٹی چیئر سینیٹ سے طویل ملاقات کی، جس میں یونیورسٹی کو درپیش شدید مالی و انتظامی بحران اور اساتذہ کے دیرینہ مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں اساتذہ رہنماؤں نے ڈپٹی چیئر سینیٹ کو ان سنگین حالات سے آگاہ کیا جن کے باعث اساتذہ امتحانات کے بائیکاٹ جیسا سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔
وفد نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ہاؤس سیلنگ، پینشن، واجب الادا بقایاجات اور وائس چانسلر کے نامناسب و غیر علمی رویے، خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنا، تنخواؤں میں غیر قانونی کٹوتی، اساتذہ و ملازمین کی جبری برطرفیوں، پسند ناپسند کی بنیاد پر جانبدارانہ اور امتیاز پر مبنی نئی آسامیوں کے اشتہار کے خلاف اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی چئیر سینیٹ نے اساتذہ کے مسائل کو انتہائی غور سے سنا اور ان کے ممکنہ حل کے لیے گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی مسائل کے پائیدار حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھی جائیں گی ۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں یونیورسٹیوں کو اپنے وسائل بڑھانے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے تحقیق اور انڈسٹریل ریلیشنز (صنعتی روابط) کو فروغ دینا ہو گا ۔
ڈپٹی چیئر سینیٹ نے مزید کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے بیشتر مسائل انتظامی نوعیت کے ہیں جن پر جلد قابو پا لیا جائے گا، جبکہ یونیورسٹی کے اندر موجود وسائل اور ہیومن ریسورس کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ گرانٹ میں اضافے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مطالبات اور مسائل کے حتمی حل کے لیے فریقین کے درمیان مستقبل میں مزید ملاقاتیں بھی متوقع ہیں ۔

