صفحہ اولNewsجامعہ کوہاٹ میں 150 کے لگ بھگ تدریسی و غیر تدریسی بھرتیاں

جامعہ کوہاٹ میں 150 کے لگ بھگ تدریسی و غیر تدریسی بھرتیاں

پشاور : جامعہ کوہاٹ میں 150 کے لگ بھگ تدریسی و غیر تدریسی بھرتیاں ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ 

ایجوکیشن نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق جامعہ کوہاٹ میں صوبائی کابینہ کے 36ویں اجلاس میں عائد کردہ پابندی ، ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 80 سے زائد لیکچرار اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی عارضی بھرتیاں کی گئی ہیں ۔ جب کہ ایک سے 16 اسکیل تک 70 سے زائد ملازمین ڈیلی ویجز کے نام پر بھرتی کیئے گئے ہیں ۔

جامعہ کوہاٹ میں کی گئی ان بھرتیوں میں میرٹ کو نظر انداز کرنے ہوئے نیڈ اسسٹمنٹ ، آؤٹ آف بجٹڈ ، NOC اور اشتہار کے بغیر ، بغیر سلیکشن کمیٹی اور سنڈیکیٹ منظوری کے وزٹنگ بھرتیاں کر لی گئی ہیں ۔ ایکٹ کے مطابق وائس چانسلر کو وزٹنگ فکیلٹی کی بھرتیوں کا اختیار ہے۔

تاہم ایکٹ میں اختیارات کیلئے متعین سکیشن 11 کے برعکس لیکچرار اور اسسٹنٹ پروفیسرز بھرتی کیئے گئے ہیں ۔ صوبائی اسمبلی کے اگست 2025 میں منعقدہ 36ویں اجلاس کے منٹس کے مطابق کسی بھی ادارے میں سکیل ایک سے گریڈ 14 تک کی بھرتیاں بغیر اجازت و اسسمنٹ کے بغیر نہیں ہونگی ۔ یونیورسٹی آف کوہاٹ میں پہلے سے موجود ہونے کے باوجود 50 سے زائد ڈیلی ویجز پر کم از کم اجرت کے بجائے 60 ہزار روپے تک تنخواہ کے عوض بھرتیاں کی گئی ہیں ۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی کے سینئر افسران میں سے کسی افسر کو رجسٹرار تعینات کرنے کے بجائے جونیئر افسر ضلعدار خان کو رجسٹرار تعینات کیا گیا ہے جہاں سینئرز کی حق تلفی کی گئی ہے وہیں پر KP یونیورسٹیز ترمیمی ایکٹ 2024 کی سیکشن 13 کی بھی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ ضلعدار خان گریڈ 19 جامعہ کوہاٹ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمیشن تھے جن کو گریڈ 20 میں رجسٹرار تعینات کیا گیا ہے ۔

جب کہ ترمیم شدہ ایکٹ کے مطابق یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹیو پوسٹوں پر تعینات تین سینئر ترین افسران کے نام کی سمری سیکرٹری HED کے ذریعے وزیر اعلی کو دی جائے گی جس میں سے کسی ایک کو رجسٹرار تعینات کیا جائیگا تاہم وائس چانسلر نے خود ہی جونیئر افسر کو تعینات کر رکھا ہے ۔

اس وقت یونیورسٹی میں گریڈ 20 کے افسران میں بہادر خان مہمند ، ڈاکٹر محمد طارق خان ، انجینئر الطاف حسین ، محمد ظفر خان ، ڈاکٹر محمد ذیشان اور ڈاکٹر اسد حبیب موجود ہیں جن کے باوجود گریڈ 19 کا جونیئر افسر رجسٹرار تعینات ہے ، جو ایکٹ کی سیکشن 13 کی واضح خلاف ورزی ہے ۔

اس کے علاوہ ان کیڈر پوسٹوں پر تعینات نان کیڈر اور غیر متعلقہ افسران کو بغیر تجربہ کے دوسرے عہدوں پر تعینات کر دیا ہے ، جیسا کہ گریڈ 20 کے ڈائریکٹر ورکس انجینئر محمد الطاف حسین کو عہدے سے ہٹا کر پرووسٹ بنایا گیا اور ان کی جگہ ایڈیشنل ڈائریکٹر P&D نادر سرفرار کو ڈائریکٹر ورکس تعینات کر دیا گیا ہے ۔ نادر سرفراز انجنیئر ہیں نہ ہی ان کے پاس متعلقہ شعبے کا کوئی تجربہ ہے ۔ جب کہ الطاف حسین KP کی متعدد سرکاری تعمیراتی منصوبوں اور ٹیکنیکل معاملات میں بطور ماہر شریک ہوتے اور تجربات شیئر کرتے رہے ہیں ۔

اس کے علاوہ چائنہ سے PhD کر کے آنے والے انجینئر ڈاکٹر محمد رضوان کو ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس کے عہدے سے ہٹا کر منیجر ORIC تعینات کر دیا ہے ۔ انجنیئر کا تعلق ورکس ڈیپارٹمنٹ کے کاموں سے ہے اورک میں نہیں ہے ۔ یعنی کہ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس دونوں کو ہٹا کر منظور نظر افراد کو تعینات کیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ وائس چانسلر کے پرسنل سیکرٹری فیصل محمود جو کیڈر کے اعتبار سے اسٹینو گرافر فیلڈ سے ہیں ، ان کو ڈپٹی رجسٹرار اسٹبلشمنٹ تعینات کیا گیا ہے ۔ جو ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے ۔

یونیورسٹی کے تجربہ کار IT ماہر ایڈیشنل ڈائریکٹر ICT روف خان کو ٹیکنیکل عہدے سے ہٹا کر غیر متعلقہ پوسٹ پر ایڈیشنل کنٹرولر آف ایگزامینیشن تعینات کر دیا ہے ۔ اور ڈائریکٹر ICT کا اضافی چارج بھی غیر متعلقہ و ناتجربہ کار افسر ڈائریکٹر ایڈمیشن کو دے دیا ہے ۔ جب کہ ڈاکٹر اسد حبیب کی بطور ڈائریکٹر ایڈمیشن تعیناتی بھی پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج ہو چکی ہے ۔کیونکہ کہ گورنر انسپکشن ٹیم بھی اس پر اعتراض اٹھا چکی تھی ۔

اس کے علاوہ یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر YDC کے بانی و سربراہ پروفیسر ڈاکٹر کلیم سلطان کو ہٹا کر انکی جگہ آفس اسسٹنٹ گریڈ 16 کے آصف علی کو YDC کا انچارج بنایا گیا ہے ۔ گریڈ 21 کے افسر کو ہٹا کر گریڈ 16 کے افسر کو تعینات کرنے کی اصل وجہ وائس چانسلر کی قریبی رشتہ داری بتائی جاتی ہے ۔

اس حوالے سے جامعہ کوہاٹ کے وائس چانسلر اور پی آر او سے موقف معلوم کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی موقف دیا گیا ہے ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
Are you human? Please solve:Captcha


مقبول ترین