کراچی : عیدگاہ تھانے کے ایس ایچ او نے اسسٹنٹ کمشنر گارڈن ساؤتھ کراچی کو خط لکھ کر محرم الحرام کے دوران فیڈرل اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس میں کسی بھی پروگرام کے لیے “این او سی” جاری نہ کرنے کی درخواست کی ۔
ایجوکیشن نیوز کو حاصل 2 جون کو لکھے گئے خط نمبر SHO/PS/E.G/1039 کے مطابق پولیس کو انٹیلی جنس رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ سنی تنظیم سپاہ صحابہ اور شیعہ طلبہ تنظیم آئی ایس او کے ارکان محرم کے دوران کیمپس میں اپنے اپنے مسلک کے بینرز آویزاں کرنے اور سبیلیں لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایس ایچ او نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے اور امن و امان کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔ خط میں 1 جولائی 2025 کو اسی کیمپس میں دونوں گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس سے سنگین لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ اس واقعے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی مدعیت میں آئی ایس او کے طلبہ کے خلاف تھانہ عیدگاہ میں ایف آئی آر نمبر 118/2025 دفعات 147/148/337-A(i)/186/487 PPC کے تحت درج کی گئی تھی۔
ایس ایچ او نے سفارش کی ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی جائے کہ محرم کے دوران کیمپس میں کسی قسم کے اسٹالز، بینرز یا سبیل لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔
خط کی نقول ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سٹی ڈی آئی بی برانچ کراچی، ایس ڈی پی او عیدگاہ سٹی کراچی اور انتظامیہ اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس کو بھی بھیجی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور یونیورسٹی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
تاہم حیران کن طور پر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے غیر دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے یومِ علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے موقع پر یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس کو ہی بند کر دیا ہے ۔ جبکہ انٹیلی جنس اداروں نے دونوں فریقین کو این او سی نہ دینے اور جلوس ‛ جلسہ ‛ بینر لگانے سے منع کیا ہے ۔ اسی روڈ پر ڈاؤ یونیورسٹی ‛ وومن کالج سمیت اہم تعلیمی ادارے موجود ہیں وہ کھلے ہیں تو عبدالحق کیمپس بند کرنا غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے ۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایسا کر کے دو بڑی غلطیاں کی ہیں ایک تو اس ممکنہ کشیدگی سے خوف زدہ ہوئی ہے اور دوسری طرف جمعرات کو عبدالحق کیمپس کی انجمن اساتذہ اور گلشن کیمپس کی انجمن اساتذہ کا مشترکہ طور پر ایک اجلاس ہونا تھا جس کا اثر کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
جمعرات کو اب گلش کیمپس میں دونوں کیمپس کے اساتذہ وائس چانسلر کیخلاف احتجاج کیا جائے گا کیونکہ ان پر الزام ہے کہ ان کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے یونیورسٹی کی انتطامی ‛ مالی اور تعلیمی بحران کا شکار ہو گئی ہے ۔

