کراچی : وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس کی نو منتخب کابینہ کی تقریبِ حلف برداری؛ اساتذہ کا بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج، وائس چانسلر کے احتساب کا مطالبہ
اردو یونیورسٹی شدید مالی و انتظامی بحران کا شکار، اساتذہ دو ماہ کی تنخواہ اور 25 ماہ کی ہاؤس سیلنگ سے محروم ہیں، میڈیکل پینل کی سہولت بند کر کے یونیورسٹی میں حکیم بٹھا دئے گئے ہیں۔
وائس چانسلر کی دو سالہ کارکردگی مایوس کن ہے، متنازعہ اشتہار اور مطالعہ پاکستان و سندھی جیسے شعبوں میں نئے داخلوں پر پابندی ملک کی نظریاتی بنیادوں پر حملہ ہے۔ صدر روشن علی سومرو و دیگر عہدیداران
انجمنِ اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی (عبدالحق کیمپس) کے نو منتخب عہدیداران کی تقریبِ حلف برداری منعقد ہوئی جس میں صدر روشن علی سومرو، نائب صدر ڈاکٹر اصغر دشتی، جنرل سیکرٹری سید اقبال حسین نقوی، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر عرفان عزیز اور فنانس سیکرٹری خرم شاہ نواز نے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کی رکن مہتاب اکبر راشدی سے اپنے عہدوں کے لئے حلف لیا۔
جامعہ کی ابترصورتحال کے پیشِ نظر تمام نومنتخب عہدیداران نے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر حلف اٹھایا اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ مہتاب اکبر راشدی نے اساتذہ کے مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ اردو یونیورسٹی کے بحران کو قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی میں بھرپور طریقے سے اٹھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے جائز مطالبات حل کیے بغیر تعلیمی معیار برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
انجمن اساتذہ کے جنرل سیکرٹری سید اقبال حسین نقوی نے جامعہ کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اساتذہ و عمال دو ماہ کی تنخواہوں، 19 تا 25 ماہ کی ہاؤس سیلنگ اور میڈیکل سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے 12 اپریل 2026 کو جاری ہونے والے اساتذہ کی بھرتی کے اشتہار کو “جانبدارانہ اور متنازعہ” قرار دیتے ہوئے فی الفور منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی منظوری کے بغیر 2022 کے اشتہار کی منسوخی اور نئے اشتہار میں پروفیسر کی اسامیوں کو نظر انداز کرنا سینیئر اساتذہ کی حق تلفی اور میرٹ کا قتل ہے۔ انہوں نےمطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور اس میں اساتذہ نمائندے شامل کئے جائیں۔
صدر انجمن روشن علی سومرو نے وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر کی عدم دلچسپی اور دفاتر سے مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے یونیورسٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی کو ٹائم نہیں دیتے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ
12 اپریل کے متنازعہ اشتہار کو منسوخ کر کے 2022 کے اشتہار کے مطابق سلیکشن بورڈز کا انعقاد کیا جائے۔
2021کے سلیکشن بورڈ سے متعلق پروفیسر تنویر خالد صاحبہ سعید اللہ والا صاحب اور شکیل الرحمن صاحب پر مشتمل سینٹ کی تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ پر فوری عمل درامد کیا جائے
ہاؤس سیلنگ میں 20 فیصد کٹوتی کا غیر قانونی فیصلہ واپس لیا جائے اور تمام بقایاجات فوری ادا کیے جائیں۔
ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن اور واجبات کی ادائیگی کے لیے یونیورسٹی کی ایک ارب سے زائد کی سرمایہ کاری کو استعمال میں لایا جائے۔
مطالعہ پاکستان، سندھی اور اسلامیات سمیت دیگر آرٹس و سائنس کے شعبہ جات میں داخلوں پر عائد غیر آئینی پابندی فوری ختم کی جائے۔
سنڈیکیٹ کے غیر ائینی (59ویں) اجلاس میں ہاؤس سیلنگ سے 20 فیصد کی کٹوتی کے غیر قانونی فیصلے کو واپس لیا جائے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی ڈاکٹر رضا چوہان کمیٹی کی رپورٹ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔
تقریب میں گلشن اقبال کیمپس کی انجمن اساتذہ کی صدر سعدیہ خلیل، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر افتخار طاہری، آفیسر ویلفیئر کے عہدیداروں اورغیر تدریسی عملے کے نمائندگان اور اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔

