Monday, June 1, 2026
صفحہ اولNewsجامعہ چترالی میں نگراں دور حکومت کے غیر قانونی بھرتی افسران تاحال...

جامعہ چترالی میں نگراں دور حکومت کے غیر قانونی بھرتی افسران تاحال موجود ہونے کا انکشاف

کراچی : جامعہ چترال میں نگراں دور حکومت میں بھرتی ہونے والے افسران کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے ، چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کے احکامات کے باوجود یونیورسٹی کی انتطامیہ نے نگراں دور میں بھرتی ہونے والے افسران کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا ہے نہ ہی ان کو نوکری سے سبکدوش کر کے محکمہ اعلی تعلیم کو رپورٹ پیش کی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا یونیورسٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2024 پر جامعہ چترال میں تاحال عملدرآمد نہیں کیا جا سکا ہے ، نگران حکومت کے دورانیہ 22 جنوری 2023 تا 29-فروری 2024 کے دوران باقاعدہ آسامیوں پر ابتدائی بھرتی کے ذریعے تعینات کیے گئے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو اضافی انتظامی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے کے لئے خیبر پختونخوا یونیورسٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2024 پر من و عن عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے ،

صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ خیبر پختونخوا نے اپنے اعلامیہ نمبر PA/Khyber Pakhtunkhwa/Bills-45/2025/3786 مؤرخہ 18 فروری 2025 کے ذریعے ’’خیبر پختونخوا ملازمین (برطرفی از ملازمت) ایکٹ 2025‘‘ شائع کیا تھا ۔

خیبر پختونخوا ملازمین (برطرفی از ملازمت) ایکٹ 2025 کی دفعہ 3(1) کے تحت غیر قانونی طور پر تعینات ملازمین کو ان کی تقرریوں کے ابتدا ہی سے کالعدم (Void ab initio) قرار دیا گیا تھا ۔ مذکورہ ایکٹ کی دفعہ 1(2) کے مطابق یہ قانون ان تمام ملازمین پر لاگو ہو گا جو دفعہ 2 کی شق (e) میں بیان کیے گئے ہیں ۔

یونیورسٹی آف چترال میں لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے انٹرویوز 22 جنوری 2023 کے بعد نگران حکومت کے دور میں منعقد ہوئے تھے ، خیبر پختونخوا ملازمین (برطرفی از ملازمت) ایکٹ 2025 کے تحت ان کی تقرریاں ابتدا ہی سے کالعدم قرار دی جانی تھیں ۔ تاہم اس قانون پر یونیورسٹی آف چترال میں مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے ۔

حکومتِ خیبر پختونخوا کے اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ریگولیشن ونگ) نے اپنے مراسلہ نمبر SO(Policy)/E&AD/2-6/Removal from Service/2025 مؤرخہ 21 فروری 2025 کے ذریعے جامعات کو ہدایت کی کہ نگران حکومت کے دور میں (22-01-2023 تا 29-02-2024) تعینات ملازمین کو ملازمت سے ہٹانے کے متعلق 30 دن کے اندر نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، جیسا کہ ایکٹ کی دفعہ 6(2) میں درج ہے۔

مزید برآں، تمام متعلقہ محکموں اور اداروں بشمول جامعات کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت (18 مارچ 2025) کے اندر قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنی رپورٹ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کریں ۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز خیبر پختونخوا نے بھی اپنے مراسلہ نمبر SOG/HE/2-83/Instructions/2025 مؤرخہ 26 فروری 2025 کے ذریعے تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا ملازمین (برطرفی از ملازمت) ایکٹ 2025 پر مقررہ مدت (19 مارچ 2025 سے قبل) عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔

یونیورسٹی آف چترال میں اس وقت تمام انتظامی عہدے انہی لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے پاس اضافی چارج کی صورت میں موجود ہیں جن کی تقرریاں متنازع یا غیر قانونی قرار دی گئی ہیں۔ یونیورسٹی قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ مذکورہ ایکٹ 2025 پر عملدرآمد کرے اور ایسے افراد کو اضافی انتظامی ذمہ داریوں سے فوری طور پر فارغ کرے ۔

یہ افراد انتظامی اور مالیاتی دفاتر کے نگران ہونے کی حیثیت سے ریکارڈ میں ردوبدل، دستاویزات میں جعل سازی یا متعلقہ حکام اور یونیورسٹی کے قانونی اداروں کو گمراہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی متنازع تقرریوں کے تحفظ کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ شفافیت، غیر جانبداری، پیشہ ورانہ معیار اور حکومتی احکامات کے مؤثر نفاذ کے لیے انہیں ان اضافی ذمہ داریوں سے الگ کرنا ضروری ہے۔

ان اضافی عہدوں پر تعیناتیاں خیبر پختونخوا یونیورسٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے مطابق کی جا سکتی ہیں ۔ اگر فوری طور پر ایسا ممکن نہ ہو تو ان مستقل فیکلٹی ممبران کو بطور عبوری انتظام اضافی چارج دیا جائے جن کی تقرریاں ایکٹ 2025 کے تحت متنازع نہیں ہیں، جن کا ریکارڈ بے داغ ہے اور جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

متنازع فیکلٹی ممبران 2017 سے مسلسل باری باری اضافی عہدوں پر فائز رہے ہیں، جو خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 (ترمیمی 2024) کی دفعات کے منافی ہے۔ اس بے ضابطگی کے خاتمے کے لیے اضافی چارجز کی مکمل ازسرِنو تقسیم کی درخواست کی جاتی ہے ۔

مزید برآں، یونیورسٹی آف چترال کے رجسٹرار نے نوٹیفکیشن نمبر UoCh/Estab/Ntf/427/25 کے ذریعے سنڈیکیٹ میں مستقل لیکچررز کے متفقہ طور پر منتخب نمائندے کو غیر قانونی طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا، حالانکہ اس کی قانونی مدت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ یہ اقدام محکمہ اعلیٰ تعلیم کے خط کی غلط تشریح کرتے ہوئے کیا گیا، جو دراصل خیبر پختونخوا یونیورسٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے نفاذ سے متعلق تھا۔

ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ سرکاری خط و کتابت رجسٹرار آفس کی ذمہ داری ہے۔ ایسی صورت میں کسی ایسے ملازم کی جانب سے خط و کتابت کرنا جس کی تقرری حکومتِ خیبر پختونخوا کی طرف سے غیر قانونی قرار دی جا چکی ہو، قانون کے منافی ہے۔

متاثرہ ملازمین مختلف اہم کمیٹیوں کا حصہ ہیں اور انہوں نے اپنے لیے ایسوسی ایٹ پروفیسر کی مستقل آسامیوں کی سفارش بھی کی ہے، جنہیں 4 جون 2026 کو ہونے والے سنڈیکیٹ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جانا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ناقابلِ جواز ہے بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف بھی ہے۔ تقرریوں کے دوران خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012 (ترمیمی 2016) اور ماڈل سٹیچیوٹس 2016 کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین