پشاور : گومل یونیورسٹی میں مالی، انتظامی اور اخلاقی بے ضابطگیوں کیخلاف اینٹی کرپشن میں انکوائری شروع ہو گئی ، ااینٹی کرپشن حکام نے یونیورسٹی سے ریکارڈ طلب کر لی ہے ۔
ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا نے ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر مالی، انتظامی، تعلیمی اور اخلاقی بے ضابطگیوں کی شکایات پر باقاعدہ انکوائری (Open Enquiry No. 17/2026-EDU) کا آغاز کر دیا ہے ۔
اسپیشل انویسٹی گیشن ونگ (ہیڈ کوارٹرز) پشاور کے انچارج کو اس اہم انکوائری کا افسر مقرر کیا گیا ہے ۔اینٹی کرپشن نے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کو باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے 7 روز کے اندر یونیورسٹی کا اہم اور تصدیق شدہ ریکارڈ فراہم کرنے کا سخت حکم دیا ہے ۔
اینٹی کرپشن کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت میں ریکارڈ فراہم نہ کرنے کو قانون کی راہ میں رکاوٹ تصور کیا جائے گا اور متعلقہ حکام کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اینٹی کرپشن کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ سے افسران کی بھرتیوں اور ترقیوں کا پرسنل اور سروس ریکارڈ ، یونیورسٹی کے ملازم ظاہر شاہ مروت کی 2011 میں ابتدائی تعیناتی، 2012 میں ریگولرائزیشن اور بی پی ایس 17، 18 اور 19 میں ترقیوں کا مکمل ریکارڈ بشمول سلیکشن بورڈ کی سفارشات مانگی گئی ہیں ۔
ظاہر شاہ مروت کی ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیمی اسناد، انرولمنٹ، حاضری کا ریکارڈ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی پالیسی کے مطابق دورانیہ کی تفصیلات ، ظاہر شاہ مروت، اصغر مروت، ساجد معین اور دیگر کی ترقیوں کے حوالے سے سلیکشن بورڈز کے منٹس اور حاضری شیٹس اور حافظ خٹک، وسیم خان، ذکی اللہ اور دیگر کی حالیہ ترقیوں کے حوالے سے پروموشن کمیٹی کے منٹس بھی مانگے گئے ہیں ۔

اس کے علاوہ سال 2022 سے لے کر اب تک کی تمام اندرونی (Internal) اور بیرونی (External) آڈٹ رپورٹس ، 2022 سے ہونے والی تمام خریداریوں کا تفصیلی ریکارڈ، بالخصوص فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے متعلق خریداریاں ، یونیورسٹی گاڑیوں کے گزشتہ 5 سال کا ٹرانسپورٹ ریکارڈ، لاگ بکس، ایندھن (Fuel) کا استعمال اور گاڑیوں کی مینٹیننس کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے ۔
اینٹی کرپشن حکام نے اس کے علاوہ سال 2022 سے الحاق شدہ تمام نجی کالجوں کی فہرست، انسپکشن رپورٹس اور فیس جمع کرانے کی رسیدیں، 2022 سے جاری کردہ ڈگریوں (BS, ADP, B.Ed, BBA, MBA وغیرہ) کا ریکارڈ اور منظور شدہ نشستوں کی تعداد کے علاوہ نجی کالجوں کے طلبہ کا امتحانی فیسوں کا مکمل بینک ریکارڈ اور پنجاب کے کسی نجی کالج سے منسلک بی ایس اینستھیزیا (BS Anesthesia) کی ڈگریوں کے اجراء کی تفصیلات بھی مانگی ہیں ۔
اس کے علاوہ سال 2022 سے اب تک کی بھرتیاں کی تحقیقات کے سلسلے میں 2022 سے اب تک عارضی اور مستقل بنیادوں پر ہونے والی تمام بھرتیوں کا اشتہار، ٹیسٹ و انٹرویو کا ریکارڈ اور بھرتی ہونے والے ملازمین اور ان کے والدین کے شناختی کارڈز کی نقول بھی طلب کی گئی ہیں ۔ سونامی ٹریز (شجرکاری) پروجیکٹ کے تحت یونیورسٹی سے سونامی ٹریز پروجیکٹ کا ریکارڈ ، درختوں کی موجودہ تعداد اور مواضع کلاچی والا کی طرف سے درختوں کی کٹائی کا معاملہ بھی زیر تفتیشن ہو گا۔
اینٹی کرپشن حکام نے ہراسمینٹ (جنسی ہراسگی) اور سیکیورٹی ریکارڈ کے تحت سیکیورٹی سیکشن اور وائس چانسلر آفس کو رپورٹ ہونے والی ہراسمینٹ کی شکایات کا مکمل ریکارڈ، بالخصوص فیکلٹی آف ویٹرنری کی خاتون پروفیسر اور انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرر سے متعلق کیسز کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں ۔
یونیورسٹی کی باقاعدہ بندش کے دوران ہوسٹلوں (Hostels) میں غیر قانونی رہائش کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے اور اس کے علاوہ اینٹی کرپشن نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس معاملے میں فوری کوآرڈینیشن کے لیے ایک فوکل پرسن نامزد کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ شفاف انکوائری کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔

