وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی کے خلاف خواتین کی ورک پلیس ہراسانی کا دوسرا کیس بھی سامنے آ گیا ہے ، متاثرہ خاتون ٹیچر ارم رانی نے رجسڑار اردو یونیورسٹی کے پاس تحریری شکایت جمع کرا دی ہے ،
اساتذہ کے احتجاج کے دوران ہی ایک اور ناخوشگوار صورتحال بھی سامنے آئی ہے جس میں وائس چانسلر کیخلاف ایک خاتون ٹیچر نے الزام عائد کرتے ہوئے درخواست وائس چانسلر کو جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے الزام عاید کیا ہے وائس چانسلر نے ورک پلیس ہراسمنٹ کی ہے ۔ یہ دوسرا واقعہ ہے کہ وائس چانسلر کیخلاف کسی خاتون نے الزام عائد کیا ہے ۔
اس سے قبل اسلام آباد کیمپس کی ایک خاتون فازیہ نے ہراسگی کے کیس میں فوسپا (FOSPA) میں مقدمہ جیتا تھا، جسے بعد ازاں صدرِ پاکستان نے معاف کر کے ختم کر دیا تھا ۔ فازیہ کے کیس میں کوئی گواہ نہیں تھا جب کہ موجودہ کیس میں گواہوں کی موجودگی یقینی ہے ۔
صدر شعبہ،سیاسیات، عبدالحق کیمپس ڈاکٹر رانی ارم نے اساتذہ نے درخواست میں لکھا ہے کہ 23 اکتوبر 2024 کو انجمن اساتذہ کی کال پر ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں میں نے بھی شرکت کی ۔ چونکہ احتجاج کے دوران میں ایڈمن بلاک کے دروازے کے سامنے موجود تھی اس لیے اسی دن سے وائس چانسلر نے مجھے ذاتی طور پر ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ۔
اس احتجاج کے اگلے روز 24 اکتوبر 2024 کو ایڈمیشن کے حوالے سے ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ اس میٹنگ میں وائس چانسلر نے میرا نام لیے بغیر یہ الفاظ کہے کہ “میں اس عورت کو جانتا ہوں جو چابی چھپا کر بیٹھی ہوئی تھی اور اسی نے چابی نکالی تھی ۔” اگرچہ میرا نام نہیں لیا تاہم یہ بات بالکل واضح تھی کہ ان کا اشارہ میری جانب تھا ۔
25 اکتوبر 2024 کو وائس چانسلر نے تمام اساتذہ کو عبدالقدیر خان آڈیٹوریم میں ایک اجلاس کے لیے مدعو کیا ۔ انجمن اساتذہ کی جانب سے اجلاس میں شرکت سے منع کیے جانے کے باوجود میں اس میٹنگ میں شریک ہوئی ۔ اجلاس میں تقریباً 18 افراد موجود تھے جن میں شمائل ، ڈاکٹر شبر رضا، ڈاکٹر افتخار طاری، ڈاکٹر کہکشاں اور دیگر اساتذہ شامل تھے ۔ اس واقعے کے حوالے سے جناب شمائل اور ڈاکٹر تنویر گواہی دینے کے لیے بھی تیار ہیں ۔
اس میٹنگ کے دوران وائس چانسلر نے براہِ راست مجھے مخاطب کرتے ہوئے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ “میں تمہیں آگے بڑھنے نہیں دوں گا ۔ تم اسسٹنٹ پروفیسر ہو اور اسسٹنٹ پروفیسر ہی ریٹائر ہو گی ۔” اس پر میں نے جواب دیا کہ “یہاں تک مجھے اللہ تعالیٰ لے کر آیا ہے۔” اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “تم اللہ کو ہی لے کر بیٹھی رہو ۔” اس میٹنگ کے دوران وہ بار بار اشارے کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ “تم نے چابی یہاں ڈالی اور یہاں سے ایسے نکالی ” ۔

بعد ازاں مرجر کمیٹی کی ایک میٹنگ کے دوران بھی وائس چانسلر نے میرے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ان کا تو سیاسی معاملہ ہے۔ ان کو ایسے معاف نہیں کریں گے۔” ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے بھی مجھے بتایا کہ وائس چانسلر مختلف میٹنگز میں بار بار میرا ذکر کرتے ہیں اور اکثر گفتگو کا آغاز یا اختتام میرے حوالے سے بات کر کے کرتے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر سعدیہ خلیل سمیجہ نے بھی مجھے آگاہ کیا کہ وائس چانسلر متعدد مواقع پر میرے بارے میں منفی انداز میں گفتگو کرتے رہے ہیں اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ مجھے معاف نہیں کریں گے ۔
2025 میں جب ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی نے وفاقی اردو یونیورسٹی کا وزٹ کیا تو میں نے کمیٹی کے روبرو پیش ہو کر تحریری طور پر شکایت درج کرائی کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر مجھے مسلسل ذہنی ٹارچر کا نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ کہ وہ میری ترقی کو روکنے کی واضح دھمکیاں بھی دے چکے ہیں ۔
اسی طرح آج یعنی 18 جون 2026 وائس چانسلر کی جانب سے ایڈمن بلاک کے سامنے کی جانے والی بدتمیزی بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے ۔ وائس چانسلر نے مجھ سے کہا کہ “تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم اب احتجاج میں نہیں آؤ گی”، حالانکہ حقیقتاً ایسی کوئی بات یا وعدہ کبھی نہیں ہوا تھا ۔ VC صاحب سے مرجر کی میٹنگ کے بعد میری کبھی کوئی بات ہوئی ہی نہیں ۔ یہ بات مجھے دباؤ میں لانے کے لیے کہی گئی ۔ جب میں نے کہا کہ “میں نے آپ سے کبھی کوئ وعدہ نہیں کیا ہے اور نا ہی میری آپ سے کوئی بات ہوئی ہے “، تو اس پر انہوں نے جواب دیا “اچھا، میں اپنا سلام واپس لیتا ہوں ۔” اس موقع پر دو اساتذہ کرام ڈاکٹر راشد تنویر اور ابوذر اقتدار بھی موجود تھے مگر انہوں نے خاص مجھے ہی ٹارگٹ کیا ۔
مندرجہ بالا واقعات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک مسلسل طرزِ عمل کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے تحت مجھے مختلف مواقع پر ٹارگٹ کیا گیا۔ میرے خلاف نامناسب تبصرے کیے گئے۔ میری ترقی کے حوالے سے دھمکی آمیز بیانات دیے گئے اور مجھے ایک مخالفانہ اور خوف زدہ کرنے والے ماحول کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید یہ کہ وائس چانسلر کا مسلسل سخت اور ناگوار انداز میں گھورنا اور میرے بارے میں منفی رویہ اختیار کرنا میرے لیے شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا باعث بن رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ میرے ساتھ پیش آنے والے مذکورہ تمام واقعات ورک پلیس ہراسمنٹ، مینٹل ہراسمنٹ ، پروفیشنل مس کنڈکٹ اور Abuse of Authority کی ایک سنگین اور بدترین شکل ہیں ۔
مین 18 جون 2026 کو میں نے رجسٹرار کو وائس چانسلر کی جانب سے میرے ساتھ کی جانے والی بدتمیزی کے حوالے سے تحریری شکایت جمع کروا دی ہے ۔ وکیل سے بھی مشاورت کر لی ہے اور بہت جلد وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت برائے خواتین (ورک پلیس ہراسمنٹ) میں بھی اپنا کیس فائل کروں گی تاکہ مجھے انصاف مل سکے ۔
واضح رہے کہ قانونی طریقہ کار کے تحت ورک پلیس ہراسگی کے قانون کے مطابق رجسٹرار کو دی گئی درخواست کے تحت 7 دن کا انتظار لازمی ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی آگے بڑھے گی، کیونکہ یونیورسٹی نے ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا ہے ۔ تاہم اب تک اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے ۔

