Friday, June 19, 2026
صفحہ اولNewsداؤد یونیورسٹی گلبرگ ٹاؤن کی نو تعمیر شدہ عمارت میں سنگین دراڑیں

داؤد یونیورسٹی گلبرگ ٹاؤن کی نو تعمیر شدہ عمارت میں سنگین دراڑیں

کراچی: دائود یونیورسٹی کے گلبرگ ٹاؤن میں نو تعمیر شدہ فیکلٹی کی عمارتوں میں سنگین دراڑیں، طلبہ اور عملے کی زندگی خطرے میں پڑ گئی؛ انتظامیہ نے خاموشی سے مرمت کا ٹینڈر جاری کر دیا، انتظامیہ پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد تحقیقات کا مطالبہ تیز ہو گیا ہے ۔

گلبرگ ٹاؤن میں واقع فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ کمپیوٹر سائنس (I&CS) کی حال ہی میں تعمیر اور مرمت کی جانے والی عمارتوں میں سنگین ساختی نقائص (structural faults) سامنے آنے کے بعد طلبہ، اساتذہ اور عملے کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، منصوبے میں بڑے پیمانے پر تکنیکی بے ضابطگیوں اور ناقص مٹیریل کے استعمال کے انکشافات ہوئے ہیں ۔

انجینئرز اور ماہرینِ تعمیرات نے انکشاف کیا ہے کہ نو تعمیر شدہ بلاکس میں عمودی ساختی خرابیاں (vertical structural faults) نمایاں ہو چکی ہیں ۔ پہلی منزل پر کی جانے والی اضافی توسیع کے بعد عمارت کے تمام بوجھ برداشت کرنے والے حصوں (load-bearing elements) میں گہری دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نقائص بنیادوں کے ناہموار بیٹھنے (differential settlement)، ناقص ڈیزائننگ اور بلڈنگ کوڈز کی کھلی خلاف ورزی کا نتیجہ ہیں ۔

ذرائع کے مطابق، صورتحال اس وقت مزید ابتر ہوئی جب لائبریری کی پہلی منزل پر آڈیٹوریم تعمیر کیا گیا۔ اس اضافی وزن کی وجہ سے مضبوط کنکریٹ کے بنیادی بیموں (reinforced concrete beams) میں خطرناک حد تک دراڑیں (shear and flexural cracks) آ چکی ہیں۔ ظاہری معائنے کے مطابق، بیموں پر ضرورت سے زیادہ دباؤ اور وزن کی غلط تقسیم نے پوری لائبریری کو ساختی طور پر کمزور اور کسی بھی ممکنہ حادثے کے لیے حساس بنا دیا ہے ۔

معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد انتظامیہ نے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے عمارت کو مضبوط کرنے (retrofitting) اور بیموں کی جیکیٹنگ اور کاربن فائبر ری انفورسڈ پولیمر (CFRP) ریپنگ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ٹینڈر جاری کرنا خود انتظامیہ کی جانب سے تعمیراتی نقائص کا واضح اعتراف ہے۔

ان ساختی ناکامیوں نے اس پورے منصوبے کی نگرانی کرنے والی ڈاکٹر ثمرین عاصم حسین کو شدید تنقید کی زد میں لا دیا ہے ۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں ڈاکٹر ثمرین عاصم حسین پر انتظامی، مالی اور ضابطگیوں کی سنگین بے قاعدگیوں اور کرپشن کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، انتظامیہ کے حالیہ تلافی کے اقدامات محض دباؤ کے تحت اپنی ساکھ بچانے کی ایک ناکام کوشش ہیں ۔

اگرچہ حکام نے ابھی تک اس ساختی ناکامی کی وجوہات یا احتسابی عمل پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم ماہرینِ تعمیرات اور اسٹیک ہولڈرز نے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت کا فوری طور پر ایک آزاد فارنزک انجینئرنگ آڈٹ کروایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
Are you human? Please solve:Captcha


مقبول ترین