پشاور ” حکومتِ خیبر پختونخوا کے محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے صوبے کے مختلف اضلاع میں تدریسی عملے (ٹیچنگ کیڈر) کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے گریڈ 18 کی خواتین اساتذہ کے تبادلے کیئے ہیں ۔ پبلک انٹرسٹ کے تحت کیے گئے ان تبادلوں میں گریڈ 18 کی پرنسپلز اور سبجیکٹ اسپیشلسٹس شامل ہیں ۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ہری پور، مردان، صوابی اور ایبٹ آباد کی خواتین افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں ۔ عفت یونس خان کو گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول (GGHSS) ایس این خان ہری پور سے تبدیل کر کے دوسرے ضلع میں پرنسپل GGHSS اکرام پور مردان تعینات کیا گیا ہے ۔ اور مردان کے اسی اسکول کی پرنسپل رانا شوکت کو GGHSS اکرام پور مردان سے تبدیل کر کے پرنسپل GGHSS ایس این خان ہری پور تعینات کر دیا گیا ہے ۔ دونوں خواتین کو اپنے اضلاع سے دوسرے اضلاع میں ٹرانسفر کیا گیا ہے ۔
ڈاکٹر نورین ایاز کو پرنسپل GGHSS ڈنگی ہری پور سے تبدیل کر کے اب ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن (DCTE) ایبٹ آباد میں بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ تعینات کر دیا ہے ۔ ان کی جگہ پر شازیہ رحمان جو GGHSS کے ٹی ایس نمبر 2 ہری پور میں بطور ایس ایس بائیولوجی تعینات تھیں، ان کو اب پرنسپل GGHSS ڈنگی ہری پور تعینات کر دیا گیا ہے ۔
آسیہ بی بی کو ایس ایس بائیولوجی GGHSS لاہور صوابی سے تبدیل کر کے ایس ایس بائیولوجی GGHSS کے ٹی ایس نمبر 2 ہری پور تعینات کر دیا گیا ہے ۔ ان کو بھی صوابی سے دوسرے ضلع ہری پور مین تعینات کیا گیا ہے ۔
اس کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن ایبٹ آباد کی سبجیکٹ اسپیشلسٹ مسمات صغریٰ محبوب کو 1895 دنوں کی طویل رخصتِ اتفاقیہ (ایکس پاکستان لیو) پر روانگی کے باعث ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور میں او ایس ڈی (OSD) بنا دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ان تبادلوں کے سلسلے میں کسی قسم کا سفری الاؤنس (TA/DA) قابلِ قبول نہیں ہوگا اور تمام احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے ۔
واضح ہے کہ سول سرونٹس رولز کے مطابق، حکومت کے پاس یہ قانونی اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ملازم کو صوبے کے کسی بھی حصے میں “پبلک انٹرسٹ” (عوامی مفاد یا محکمے کی ضرورت) کے تحت تعینات کر سکے۔ نوٹیفکیشن میں جب “In the best public interest” لکھ دیا جائے، تو دور دراز تبادلے کو قانوناً چیلنج کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ملازمت اختیار کرتے وقت ملازم اس شرط کو تسلیم کرتا ہے ۔
تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان اور خیبر پختونخوا حکومت کی واضح گائیڈ لائنز کے مطابق، میاں بیوی کو ایک ہی شہر یا اسٹیشن پر تعینات کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی خاندانی زندگی متاثر نہ ہو ۔ اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی خاتون کا شوہر کسی دوسرے ضلع میں نوکری کرتا ہے یا کاروبار کی وجہ سے وہاں مقیم ہے، تو خاتون ملازم “ویڈلاک پالیسی” کے تحت اپنے شوہر کے ضلع میں تبادلے کا قانونی حق رکھتی ہے ۔
اگر محکمہ کسی شادی شدہ خاتون کو اس کے شوہر کی رہائش گاہ سے دور دراز ضلع میں زبردستی بھیجتا ہے، تو وہ اس آرڈر کے خلاف محکمے میں اپیل کر سکتی ہے یا عدالت (سروس ٹربیونل/ہائی کورٹ) سے رجوع کر سکتی ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے اس پالیسی کے حق میں سخت فیصلے دیے ہیں ۔

