Monday, June 8, 2026
صفحہ اولNewsبینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری نے اچانک فیسیں بڑھا کر طلبہ پر بم...

بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری نے اچانک فیسیں بڑھا کر طلبہ پر بم گرا دیا

کراچی : بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری نے سمر سمسٹر 2026 کی پالیسی اور شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کلاسز کا آغاز 10 جون سے کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سمر سمسٹر کے لیے دیگر بھی اہم فیصلے کیئے گئے ہیں ۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق سمسٹر کی کلاسز 10 جون سے شروع ہونگی اور سمسٹر کا اختتام 10 اگست 2026 کو ہو گا ۔ 08 ہفتے سمر ویکیشن ہونگی اور ہفتہ وار کلاسز کے تحت سلیبس مکمل کرنے کے لیے ہر کورس کی ہفتے میں 2 کلاسز ہوں گی ۔

ایک طالب علم لیبارٹری کورسز سمیت زیادہ سے زیادہ 10 کریڈٹ آورز حاصل کر سکتا ہے ۔ عام کورس کی فیس 10,000 روپے فی طالب علم ہے اور لیب کورس فیس 5,000 روپے فی طالب علم  ہے ۔ 

سمر سمسٹر میں کوئی بھی کورس شروع کرنے کے لیے کم از کم 10 طلبہ کا ہونا لازمی ہے۔ تمام امتحانات، کوئز، اسائنمنٹس اور پریزنٹیشنز مقررہ وقت اور سمر سمسٹر کی اکیڈمک ضروریات کے مطابق لیے جائیں گے ۔ سمر سمسٹر میں پڑھانے والے فیکلٹی ممبران کو وزٹنگ فیکلٹی کے منظور شدہ ریٹس کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔

اس حوالے سے تمام متعلقہ شعبہ جات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سمر سمسٹر کے پرامن انعقاد کے لیے کورسز کی لسٹ اور فیکلٹی کی تفصیلات سمسٹر سیکشن کو جلد جمع کرائیں ۔ تمام محکمے طلبہ کو آفر کیے جانے والے کورسز، فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ اور سمسٹر شیڈول کے بارے میں یونیورسٹی کے آفیشل ذرائع سے لازمی آگاہ کریں ۔
اس حوالے سے طلبہ کا کہنا ہے کہ چند سمسٹر پہلے تک سپلیمنٹری امتحان کی فیس محض 750 سے 800 روپے  تھی ۔ اچانک یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ فیس بڑھا کر لیٹریچر/تھیوری سپلیمنٹری کے لیے سات ہزار روپے اور لیب سپلیمنٹری کے لیے تین ہزار روپے کر دی ہے ۔ یعنی ایک طالب علم کو ایک مضمون کی سپلی دینے کے لیے دس ہزار روپے تک ادا کرنے پڑیں گے ۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کوئی پرائیویٹ ادارہ نہیں ہے۔ یہ گورنمنٹ یونیورسٹی ہے جہاں زیادہ تر طلباء غریب، متوسط طبقے اور مالی طور پر کمزور پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں، چھوٹے کاروبار کرتے ہیں یا معمولی تنخواہ پر گزارا کرتے ہیں ۔ ایسے طلباء کے لیے اچانک اتنی بڑی فیس کا بوجھ برداشت کرنا ناممکن ہے۔

والدین کا کہناہے کہ حکومت سندھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ اور متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کریں اور پرانی فیس بحال کریں ۔ طلباء کی تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین