پشاور : خیبر پختون خوا کی جامعات کے کیسز بڑھنے لگے ہیں ، خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں 48 کروڑ روپے کا بڑا انٹرن شپ اسکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پشاور یونیورسٹی، اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی پشاور کی طرح اب صوبے کے ایک اور کامیاب تعلیمی ادارے، خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) کو بھی انتظامی بے قاعدگیوں اور اقربا پروری کی نظر کیا جا رہا ہے ۔
وزیر اعلیٰ، نیب، اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کو جمع کرائی گئی اس آفیشل شکایت میں رونگٹے کھڑے کر دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں ۔ پچھلے 3 سالوں میں بغیر کسی پبلک اشتہار کے اوپن کمپٹیشن اور میرٹ کے خلاف 100 سے زائد من پسند افراد کو ‘انٹرن شپ’ کے نام پر باقاعدہ آپریشنل اور انتظامی عہدوں پر عارضی طور پر بھرتی کیا گیا ہے ۔
یونیورسٹی ان انٹرنیز کے وظائف اور تنخواہوں کی مد میں ہر ماہ تقریباً 1 کروڑ روپے اڑا رہی ہے ، اور اب تک مجموعی طور پر 48 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا جا چکا ہے ۔ وظائف کا کوئی یکساں نظام نہیں ہے ۔ کچھ من پسند انٹرنیز کو 60 ہزار جبکہ کچھ کو 1 لاکھ روپے سے بھی زیادہ ماہانہ نوازا جا رہا ہے ۔
قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے، محکمہ صحت سے ریٹائرڈ ہونے والے ایک افسر (ڈاکٹر اکرام) کو ‘انٹرن شپ ‘ پر رکھ کر ہسپتال کا ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (DMS) جیسے انتہائی اہم اور حساس انتظامی عہدے پر بٹھا دیا گیا ہے ۔
ان بھرتیوں میں مبینہ طور پر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے قریبی رشتے داروں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے ۔ یہ اقدامات آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 18 اور 25 (جو تمام شہریوں کو روزگار کے مساوی حقوق دیتے ہیں) اور یونیورسٹی ایکٹ 2012 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں ۔
اس پورے انٹرن شپ اسکینڈل کی فوری طور پر ایک آزاد اور اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔ ان تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ اور آڈٹ پبلک کیا جائے۔ قانون اور میرٹ کی دھجیاں اڑانے والے تمام ذمہ داران کے خلاف سخت ڈسپلنری کارروائی کی جائے اور ضائع ہونے والے عوامی فنڈز کی مکمل ریکوری کی جائے۔ عوامی فنڈز اور تعلیمی اداروں کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی اب مزید اجازت نہیں دی جا سکتی ہے ۔

