ہری پور : ہری پور میڈیکل کالج کی قانونی حیثیت اور بھاری فیسوں پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایم پی اے شازیہ جدون نے محکمہ صحت سے جواب طلب کر لیئے ۔
خیبر پختونخوا کی رکن صوبائی اسمبلی (MPA) شازیہ جدون نے ہری پور میڈیکل کالج کے قیام، اس کی انتظامی نگرانی اور فیسوں کے حوالے سے صوبائی اسمبلی میں اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں، جس کے بعد صوبائی محکمہ صحت میں ہلچل مچ گئی ہے ۔
ایم پی اے شازیہ جدون نے اپنے سوال نمبر 2049 کے ذریعے وزیر صحت سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کیا ہری پور میں میڈیکل کالج کے قیام کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے ۔کیا یہ کالج پاک آسٹریا انسٹی ٹیوٹ (PAF-IAST) کی زیر نگرانی شروع کیا گیا ہے اور کیا صوبائی حکومت اسے فنڈز فراہم کر رہی ہے ۔کالج کی فیسیں دیگر سرکاری میڈیکل کالجوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ کیوں ہیں اور اس کالج کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ یہ کس قانون کے تحت کام کر رہا ہے اور کیا یہ ایک سرکاری ادارہ ہے یا نجی اور اگر یہ سرکاری ادارہ ہے تو اس کی فیسیں دیگر سرکاری کالجوں کے برابر کیوں نہیں ہیں اور کیا حکومت اب تک اس کالج کے لیے کتنے فنڈز فراہم کر چکی ہے ۔
صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے 30 جنوری 2026 کو موصول ہونے والے ان سوالات پر محکمہ صحت نے “انتہائی فوری” (Most Immediate) کارروائی کا آغاز کر دیا ہے ۔ محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (Coord) نے چیف پلاننگ آفیسر اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ان سوالات کے جوابات اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں 02 روز کے اندر فراہم کریں تاکہ انہیں وزیر صحت کے ملاحظے کے بعد اسمبلی میں پیش کیا جا سکے ۔
اس سلسلے میں محکمہ صحت نے پرنسپل ہری پور میڈیکل کالج ڈاکٹر اظہر کو بھی ایک مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں ان سے ان سوالات پر اپنی رائے اور تفصیلی تبصرے دو دن کے اندر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسمبلی سیکرٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر جواب فراہم نہ کیا گیا تو متعلقہ محکمے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور ایوان میں “جواب موصول نہیں ہوا” کا ٹیگ لگا دیا جائے گا ۔ عوامی حلقوں میں ان سوالات کو ہری پور میڈیکل کالج کی شفافیت اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

