کراچی : شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ میں وائس چانسلر کے تقرر کا عمل چیلنج کر دیا گیا ، سکرنڈ یونیورسٹی کے ہی استاد نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے ۔
شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (SBBUVAS) سکرنڈ میں وائس چانسلر کی تعیناتی کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ سرکٹ کورٹ حیدرآباد میں ایک آئینی درخواست D-533 دائر کر دی گئی ہے ۔ یہ درخواست اسی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر غلام مجتبیٰ نے اپنے وکیل کے توسط سے دائر کی ہے ۔
درخواست گزار کے مطابق، حکومتِ سندھ کے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے 14 اور 15 دسمبر 2025 کو مختلف اخبارات میں وائس چانسلر کی مستقل اسامی کے لیے اشتہار دیا تھا ۔ جس میں وہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور تجربے پر پورا اترتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے باقاعدہ طور پر اس عہدے کے لیے درخواست جمع کرائی تھی ۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اشتہار کے مطابق امیدوار کے پاس کم از کم 20 سالہ تجربہ ہونا چاہیے، جس میں سے 10 سالہ تجربہ انتظامی، مالی یا تعلیمی سربراہی (بطور وائس چانسلر، ڈین، چیئرپرسن وغیرہ) کا ہونا لازمی ہے ۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ وہ ان تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں، لیکن 17 فروری 2026 کو جاری ہونے والے انٹرویو کالز میں انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرویو کے لیے ایسے امیدواروں کو بلایا گیا جن کے پاس انتظامی تجربے کی کمی تھی، جن میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ارم بگھیو جن کے پاس کوئی انتظامی تجربہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ ڈاکٹر حبیب اللہ جنیارو کو بھی انٹرویو لیٹر جاری کیئے گئے ہیں ۔
شارٹ لسٹ ہونے والوں میں پروفیسر عمران رشید بھی شامل ہیں ۔ جو پروفیسر بننے کے بھی اہل نہیں ہیں ۔ عمران رشید ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز کے غلط استعمال میں بھی جعل سازی کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا جس سے ریکوری کی گئی تھی ۔ اور اس کے علاوہ بھی عمران رشید کے خلاف متعدد شکایات اور کیسز عدالتوں میں زیر التواء ہیں ۔
اس کے علاوہ دو سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کے ڈاکٹر جاوید احمد گادی کے پاس بھی ایڈمنسٹریشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور اسی طرح ڈاکٹر عطا حسین بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ مائنز اوتھل بلوچستان کے بھی بعض امیدواروں کو بھی انٹرویو لیٹر جاری کیئے گئے ہیں ۔
درخواست گزار کے مطابق انہیں انٹرویو کے لیے نہ بلا کر سرچ کمیٹی ایکٹ 2022 کی دفعہ 4(1)(iv) کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے، جو امیدوار کے پیشہ ورانہ تجربے اور عوامی خدمات کو مدنظر رکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔ مزید برآں، اسے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 27 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، جو ملازمتوں میں ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔
درخواست گزار نے عدالتِ عالیہ سے مندرجہ ذیل استدعا کی ہے کہ وائس چانسلر کے تقرر کے موجودہ عمل کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ تقرری کے عمل کو فوری طور پر معطل کیا جائے ۔ متعلقہ حکام کو حکم دیا جائے کہ وہ اس عہدے کے لیے دوبارہ اشتہار دیں اور ایک شفاف طریقہ کار کے ذریعے تعیناتی عمل میں لائی جائے ۔ حتمی فیصلے تک کسی بھی امیدوار کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکا جائے ۔
ادھر عدالت نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے اور فریقین ، جن میں چیف سیکرٹری سندھ، چیئرمین سرچ کمیٹی اور سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز شامل ہیں، کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں ۔

